پٹرول کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے بعد ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں بڑا اضافہ

0
8

اسلام آباد (ایم این این) – پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے بعد پاکستان بھر میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے باعث لاکھوں مسافروں پر اضافی مالی بوجھ پڑ گیا ہے۔

پاکستان ریلوے نے ہفتہ کے روز مسافر ٹرینوں کے کرایوں میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا۔ ریلوے حکام کے مطابق اکانومی کلاس کے کرایوں میں پانچ فیصد جبکہ ایئر کنڈیشنڈ کلاس کے کرایوں میں دس فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ مال بردار ٹرینوں کے کرایوں میں بھی بیس فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

پاکستان ریلوے کے ترجمان کے مطابق نئے کرائے پیر نو مارچ سے نافذ العمل ہوں گے تاہم پہلے سے بک کرائے گئے ٹکٹوں پر یہ اضافہ لاگو نہیں ہوگا۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ پاکستان ریلوے مسافر ٹرینوں کے آپریشنل اخراجات میں اضافے کا کچھ حصہ خود برداشت کرے گی۔

یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت نے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں پچپن روپے فی لیٹر کا ریکارڈ اضافہ کیا ہے۔

نئے نرخوں کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمت دو سو اسی روپے چھیاسی پیسے سے بڑھ کر تین سو پینتیس روپے چھیاسی پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے جو تقریباً بیس فیصد اضافہ ہے۔

اسی طرح پٹرول کی قیمت دو سو چھیاسٹھ روپے سترہ پیسے سے بڑھا کر تین سو اکیس روپے سترہ پیسے فی لیٹر کر دی گئی ہے جو تقریباً سترہ فیصد اضافہ ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی سپلائی میں خلل کے باعث کیا گیا جہاں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے اثرات عالمی منڈیوں تک پہنچ رہے ہیں۔

پاکستان اپنی تیل کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک اسی اہم سمندری راستے پر انحصار کرتا ہے جس کے باعث سپلائی میں خلل ملک کی معیشت پر براہ راست اثر ڈالتا ہے۔

دوسری جانب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک بھر میں بین الاضلاعی بسوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق مختلف روٹس پر کرایوں میں تقریباً تین سو سے چھ سو روپے تک اضافہ کیا گیا ہے۔

لاہور سے اسلام آباد کا کرایہ دو ہزار چھ سو روپے سے بڑھا کر تین ہزار روپے کر دیا گیا ہے جبکہ لاہور سے پشاور کا کرایہ دو ہزار آٹھ سو نوے روپے سے بڑھا کر تین ہزار پانچ سو روپے مقرر کیا گیا ہے۔

اسی طرح لاہور سے سرگودھا کا کرایہ تیرہ سو سے بڑھا کر پندرہ سو پچاس روپے جبکہ لاہور سے فیصل آباد کا کرایہ بارہ سو سے بڑھا کر تیرہ سو پچاس روپے کر دیا گیا ہے۔

طویل فاصلے کے روٹس پر بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ لاہور سے کراچی کا کرایہ آٹھ ہزار سے بڑھا کر آٹھ ہزار چھ سو روپے جبکہ لاہور سے حیدر آباد کا کرایہ آٹھ ہزار چھ سو پچاس سے بڑھا کر نو ہزار دو سو روپے مقرر کیا گیا ہے۔

اسی طرح لاہور سے رحیم یار خان کا کرایہ چار ہزار سے بڑھا کر چار ہزار دو سو پچاس روپے جبکہ لاہور سے مری کا کرایہ دو ہزار سات سو نوے سے بڑھا کر تین ہزار تین سو روپے کر دیا گیا ہے۔

لاہور کے لاری اڈے پر موجود مسافروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

شہریوں کے مطابق خوشی یا غمی کے موقع پر دوسرے شہروں کا سفر کرنا بھی اب عام آدمی کے لیے ایک بڑا بوجھ بن چکا ہے۔

دوسری جانب ٹرانسپورٹرز کا مؤقف ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کے اسپیئر پارٹس کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں جس کے باعث کرایوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے تاکہ ٹرانسپورٹ کرایوں اور مہنگائی میں مزید اضافے کو روکا جا سکے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں