ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فائنل، بھارت اور نیوزی لینڈ آمنے سامنے

0
7

اسپورٹس ڈیسک (ایم این این) – بھارت کے کپتان سوریہ کمار یادو نے اپنی ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل سے قبل دباؤ کو مثبت انداز میں قبول کرنے کا مشورہ دیا ہے جبکہ نیوزی لینڈ کے کپتان مچل سینٹنر نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم میزبان ٹیم کو شکست دے کر شائقین کو مایوس کرنے سے نہیں ہچکچائےہچکچائے گی۔

اتوار کو احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں ہونے والے فائنل میں ایک لاکھ سے زائد شائقین کی شرکت متوقع ہے جبکہ کروڑوں افراد ٹیلی ویژن پر یہ میچ دیکھیں گے۔

ہفتہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بھارتی کپتان نے کہا کہ اپنے ملک میں ورلڈ کپ کا فائنل کھیلنا ایک خاص احساس ہے اور ٹیم اس چیلنج کے لیے پرجوش ہے۔

انہوں نے کہا کہ “یقیناً اعصاب پر دباؤ اور دل میں بے چینی ہوتی ہے لیکن جیسا کہ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ اگر دباؤ نہ ہو تو مزہ بھی نہیں آتا۔”

بھارت اس میچ کو جیت کر مسلسل دوسری بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتنے والی پہلی ٹیم بننا چاہتا ہے جبکہ وہ میزبان ملک کی حیثیت سے بھی پہلی بار یہ ٹائٹل جیتنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہی اسٹیڈیم وہ مقام ہے جہاں دو ہزار تئیس میں آسٹریلیا نے ون ڈے ورلڈ کپ کے فائنل میں بھارت کو شکست دی تھی۔

سوریہ کمار یادو نے کہا کہ ٹیم دباؤ سے بچنے کے لیے ڈریسنگ روم میں ماحول کو خوشگوار رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ارشدیپ سنگھ، اکسر پٹیل اور جسپریت بمراہ جیسے کھلاڑی ٹیم میں خوشگوار ماحول قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ “ایسے کردار ٹیم کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں کیونکہ جب صورتحال مشکل ہو تو کوئی ایسا ہونا چاہیے جو ماحول کو ہلکا پھلکا بنا سکے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ایک اچھی ٹیم کلچر اور خوشگوار ماحول کامیابی کے لیے ضروری ہے اور کھلاڑیوں کو اپنی رائے دینے اور آزادی کے ساتھ کھیلنے کا موقع ملنا چاہیے۔

دوسری جانب نیوزی لینڈ کے کپتان مچل سینٹنر نے کہا کہ ان کی ٹیم میزبان بھارت کے خلاف سرپرائز دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ “میں ٹرافی جیتنے پر اعتراض نہیں کروں گا اور اگر ہمیں ٹرافی جیتنے کے لیے کچھ دل توڑنے پڑیں تو ہمیں اس پر بھی اعتراض نہیں ہوگا۔”

نیوزی لینڈ اس سے قبل دو ہزار اکیس میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچا تھا جہاں اسے آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی اور وہ اب تک کسی بھی وائٹ بال ورلڈ کپ کا ٹائٹل نہیں جیت سکا۔

سینٹنر نے کہا کہ میزبان ٹیم ہونے کے باعث بھارت پر شائقین کی توقعات کا دباؤ بھی ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ “اتنی بڑی توقعات کے ساتھ اضافی دباؤ بھی ہوتا ہے، اگر ہم یہ دباؤ ان پر منتقل کر سکیں تو نتیجہ مختلف ہو سکتا ہے۔”

نیوزی لینڈ نے سیمی فائنل میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کو نو وکٹوں سے شکست دی تھی جہاں فن ایلن نے ٹورنامنٹ کی تیز ترین سنچری اسکور کی۔

تاہم اس سے قبل ٹورنامنٹ میں انہیں جنوبی افریقہ اور انگلینڈ کے خلاف شکست کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔

دوسری جانب بھارت مسلسل تین فتوحات کے ساتھ فائنل میں پہنچا ہے اور ٹیم بھرپور فارم میں دکھائی دے رہی ہے۔

سینٹنر کا کہنا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ غیر متوقع ہو سکتی ہے اور اگر نیوزی لینڈ اپنی بہترین کارکردگی دکھائے تو وہ ایک اور بڑی ٹیم کو بھی شکست دے سکتا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں