اردن میں امریکی میزائل دفاعی ریڈار تباہ، خلیجی خطے میں کشیدگی میں خطرناک اضافہ

0
8

نیوز ڈیسک (ایم این این): ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے ابتدائی دنوں میں اردن میں نصب امریکا کا ایک اہم میزائل دفاعی ریڈار سسٹم تباہ ہو گیا ہے جس کے بعد خلیجی خطے میں امریکی دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ریڈار اردن کے موافق سلتی ایئر بیس پر نصب تھا اور امریکا کے جدید تھاڈ (THAAD) میزائل دفاعی نظام کا حصہ تھا۔ اس جدید نظام کو امریکی کمپنی آر ٹی ایکس کارپوریشن نے تیار کیا تھا۔

امریکی حکام کے مطابق صرف ریڈار کی مالیت تقریباً 300 ملین ڈالر تھی اور یہ خلیجی خطے میں بیلسٹک میزائلوں کی نگرانی اور روک تھام کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کر رہا تھا۔

ماہرین دفاع کے مطابق تھاڈ سسٹم زمین کے بالائی ماحول میں بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ مختصر فاصلے کے پیٹریاٹ سسٹم کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ تاہم ریڈار تباہ ہونے کے بعد اب میزائل حملوں کو روکنے کی ذمہ داری زیادہ تر پیٹریاٹ سسٹمز پر آ جائے گی۔

دفاعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل حملوں کے باعث پیٹریاٹ سسٹمز کے لیے استعمال ہونے والے میزائلوں کی قلت کا خدشہ بھی بڑھ رہا ہے۔

ایک مکمل تھاڈ بیٹری کی قیمت تقریباً ایک ارب ڈالر ہے جبکہ امریکا کے پاس اس وقت دنیا بھر میں صرف آٹھ ایسے نظام موجود ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تباہ ہونے والے ریڈار کی فوری تبدیلی ممکن نہیں کیونکہ اس کا متبادل دستیاب نہیں۔

خلیج میں جہاز پر حملہ

ادھر خلیج میں کشیدگی کے دوران ایک تجارتی جہاز پر حملے کی اطلاع بھی ملی ہے۔ یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق سعودی شہر جبیل کے شمال میں تقریباً دس ناٹیکل میل کے فاصلے پر ایک جہاز پر حملہ کیا گیا۔

اسی دوران ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور (IRGC) نے دعویٰ کیا کہ اس نے مارشل آئی لینڈ کے پرچم تلے چلنے والے آئل ٹینکر لوئس پی کو سعودی عرب کے مشرقی ساحل کے قریب نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیل میں دھماکے اور سائرن

دوسری جانب اسرائیل کے شہر تل ابیب میں زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی جس کے بعد پورے شہر میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا۔ فضائی حملے کے سائرن بجنے سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ پناہ گاہوں کی طرف دوڑ پڑے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق حالیہ کشیدگی کے آغاز سے اب تک 82 ڈرونز مار گرائے گئے ہیں جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 13 جدید ڈرونز تباہ کیے گئے۔

امریکا کی ہتھیاروں کی پیداوار تیز کرنے کی کوشش

امریکی محکمہ دفاع نے حالیہ دنوں وائٹ ہاؤس میں بڑے دفاعی ٹھیکیداروں کے ساتھ اجلاس کیا ہے جس کا مقصد ہتھیاروں کی پیداوار میں تیزی لانا اور میزائل انٹرسیپٹرز کی قلت کو پورا کرنا ہے۔

ایران کا سخت ردعمل

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے آخری سانس تک لڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی دباؤ یا دھمکی کے آگے نہیں جھکے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران صرف ان مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے جہاں سے اس کے خلاف حملے کیے جا رہے ہیں اور ایسے تمام مقامات کو جائز ہدف سمجھا جائے گا۔

خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین کے جفیر میں قائم امریکی فوجی اڈے کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ اس دوران دوحہ، قطر اور منامہ، بحرین میں دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

قطر کی وزارت داخلہ نے شہریوں کو موبائل الرٹ جاری کرتے ہوئے سیکیورٹی خطرے کی سطح بڑھانے کا اعلان کیا اور لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت دی۔

متحدہ عرب امارات کا ردعمل

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے کہا کہ ان کا ملک مضبوط ہے اور آسان ہدف نہیں۔

انہوں نے کہا:
“یو اے ای مضبوط ہے اور ہم اپنے ملک، شہریوں اور یہاں رہنے والے تمام لوگوں کی حفاظت کریں گے۔”

عراقی کردستان میں ڈرون حملے

ایران نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس نے عراق کے کردستان میں علیحدگی پسند گروہوں کے تین ٹھکانوں کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔ تاہم اپوزیشن ذرائع کے مطابق ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ اگر کسی گروہ نے ایران کی علاقائی سالمیت کے خلاف کارروائی کی تو اسے سخت فوجی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں