اسلام آباد (ایم این این) – اسلام آباد میں یومِ خواتین کے موقع پر نکالے جانے والے عورت مارچ سے قبل پولیس نے متعدد خواتین حقوق کی کارکنان کو حراست میں لے لیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق یہ کارکنان سیکٹر ایف سکس کے سپر مارکیٹ کے قریب جمع ہوئی تھیں اور نیشنل پریس کلب کی جانب مارچ کرنا چاہتی تھیں، تاہم وہاں پہلے ہی پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی جس نے مارچ کے شرکاء کو روک کر گرفتار کر لیا اور انہیں ویمن پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا۔
ویمن پولیس اسٹیشن کی جانب سے جاری فہرست کے مطابق عورت مارچ سے وابستہ 19 خواتین کارکنان کو حراست میں لیا گیا جن میں معروف سماجی کارکن ڈاکٹر فرزانہ باری، ان کی دو بیٹیاں اور انسانی حقوق کی کارکن طاہرہ عبداللہ بھی شامل ہیں۔
پولیس ذرائع نے تصدیق کی کہ خواتین کے علاوہ مارچ میں شریک کئی مرد افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔
مارچ کی ایک شریک زویا رحمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ ان کے شوہر سمیت تقریباً 20 مردوں کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے اور ابھی تک ان کی رہائی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔
پولیس حکام کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں فوجداری ضابطہ کی دفعہ 144 نافذ ہونے کے باعث ان افراد کو گرفتار کیا گیا۔
دفعہ 144 کے تحت ضلعی انتظامیہ کو اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے کسی علاقے میں چار یا اس سے زائد افراد کے اجتماع پر عارضی پابندی عائد کر سکے۔
سول سوسائٹی کے کارکن طارق محمود غوری نے بتایا کہ دستیاب معلومات کے مطابق اب تک 25 سے زائد مرد و خواتین کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے سیکریٹری جنرل حارث خلیق کی اہلیہ اور دیگر خواتین جب گرفتار کارکنان سے ملاقات کے لیے ویمن پولیس اسٹیشن گئیں تو انہیں بھی وہیں روک لیا گیا۔
ان کے مطابق انہیں ایک دوسرے لاک اپ میں بیٹھنے کو کہا گیا ہے اور باہر آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
طارق غوری کا کہنا تھا کہ مارچ کے شرکاء سپر مارکیٹ کے قریب جمع ہوئے تھے اور ان کا ڈی چوک جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے مظاہرین کے ساتھ بدسلوکی بھی کی۔
ادھر عورت مارچ اسلام آباد نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں ڈاکٹر فرزانہ باری اور دیگر خواتین کو ایک پولیس گاڑی میں بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے عورت مارچ کے لیے این او سی جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے باعث یہ اجتماع غیر قانونی قرار دیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق لال مسجد کی انتظامیہ نے بھی مارچ روکنے کا اعلان کیا تھا جس سے تصادم کا خدشہ پیدا ہو سکتا تھا، اس لیے ممکنہ امن و امان کی صورتحال سے بچنے کے لیے گرفتاریاں کی گئیں۔
عورت مارچ کے شرکاء اور حامیوں نے ان گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یومِ خواتین کے دن خواتین کارکنان کو گرفتار کرنا افسوسناک ہے۔
عورت مارچ اسلام آباد نے اپنے بیان میں کہا کہ پرامن احتجاج کا آئینی حق استعمال کرنے والی خواتین کو گرفتار کرنا قابل مذمت ہے۔
تنظیم کے مطابق جو افراد اپنے ساتھیوں کی رہائی کے لیے پولیس اسٹیشن گئے تھے انہیں بھی حراست میں لینا ناانصافی ہے۔
عورت مارچ نے گرفتار کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے شرکاء سے اپیل کی کہ مزید گرفتاریوں سے بچنے کے لیے منتشر ہو کر گھروں کو واپس چلے جائیں جبکہ تنظیم اپنے ساتھیوں کی رہائی کے لیے کوششیں جاری رکھے گی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے ہیومن رائٹس سیل نے بھی عورت مارچ کی قیادت کے خلاف مقدمات کے اندراج اور پولیس کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔
سیل کے مطابق یہ اقدام پرامن اجتماع کے آئینی حق پر براہ راست حملہ ہے۔
سیل کے سیکریٹری اطلاعات طارق محمود غوری نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے این او سی نہ ملنے کے بعد منتظمین نے نیشنل پریس کلب کے باہر اجتماع کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم پولیس نے متعدد افراد کو گرفتار کر لیا۔
انہوں نے کہا کہ دفعہ 144 اور پُرامن اجتماع و عوامی نظم و نسق ایکٹ 2024 کا استعمال انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو دبانے کے مترادف ہے جو ملک کے جمہوری ڈھانچے کے لیے تشویشناک علامت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عورت مارچ کے شرکاء معاشرے میں موجود صنفی تشدد کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے اپنے بنیادی حقوق استعمال کر رہے تھے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر فرزانہ باری اور دیگر کارکنان کے خلاف درج تمام مقدمات فوری طور پر واپس لیے جائیں۔
بعد ازاں عورت مارچ کے کارکنان کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا کہ گرفتار افراد کے اہل خانہ اور وکلا کو بھی ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
اس سے قبل ہفتے کے روز عورت مارچ کی نمائندہ خواتین نے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خطے کی موجودہ صورتحال اور ایران سے متعلق جنگی ماحول پر بھی تشویش کا اظہار کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کے نام پر ایران کے خلاف جنگ مسلط کرنے کی کوششیں دراصل سیاسی اور معاشی مفادات کے حصول کا حصہ ہیں۔
اس سال عورت مارچ اسلام آباد کا موضوع فیمینسٹ آئین رکھا گیا ہے جبکہ منتظمین نے حدود آرڈیننس سمیت چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
واضح رہے کہ دو ہزار اٹھارہ سے عورت مارچ ہر سال آٹھ مارچ کے موقع پر ملک بھر میں منعقد کیا جاتا ہے اور یہ خواتین کے حقوق کے لیے احتجاج اور مزاحمت کی علامت بن چکا ہے۔
گزشتہ سال بھی اسلام آباد پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر آٹھ مارچ کو ہونے والے عورت مارچ کے منتظمین کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
یہ مقدمہ کوہسار تھانے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 188 اور 341 کے ساتھ ساتھ پُرامن اجتماع و عوامی نظم و نسق ایکٹ 2024 کی دفعہ 8 کے تحت درج کیا گیا تھا۔
اسلام آباد انتظامیہ نے نیشنل پریس کلب سے ڈی چوک تک مارچ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد مظاہرین نے پریس کلب کے باہر اجتماع کیا تھا کیونکہ پولیس نے انہیں ڈی چوک کی جانب جانے سے روک دیا تھا۔


