عالمی کشیدگی کے پیش نظر معیشت کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت

0
5

اسلام آباد (ایم این این) – وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے علاقائی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی معیشت کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال توانائی کی فراہمی اور عالمی منڈیوں میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو متاثر کر سکتی ہے۔

وزیر اعظم کی زیر صدارت اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں عالمی حالات کے ممکنہ معاشی اثرات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کے دوران حکام نے وزیر اعظم کو آگاہ کیا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث توانائی کی عالمی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے اور تیل سمیت دیگر اشیاء کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جس کے اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے بروقت اقدامات کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں اور عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری فیصلے کیے جائیں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی حالات کے ممکنہ معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو پیشگی تیاری کرنا ہوگی تاکہ معیشت کو کسی بڑے جھٹکے سے بچایا جا سکے۔

انہوں نے وفاقی کابینہ، منتخب نمائندوں اور وفاقی و صوبائی سطح کے اعلیٰ حکام کو ہدایت کی کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور قومی وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے فعال کردار ادا کریں۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کے تمام اداروں کو باہمی تعاون کے ساتھ کام کرنا ہوگا تاکہ ممکنہ معاشی دباؤ کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

انہوں نے سرکاری ملازمین اور وزراء کو سادگی اور کفایت شعاری اختیار کرنے کی ہدایت بھی کی اور کہا کہ غیر ضروری اخراجات سے اجتناب کیا جائے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومتی عہدیداروں کو عوام کے سامنے مثال قائم کرتے ہوئے سرکاری وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا چاہیے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معاشی ایڈجسٹمنٹ کا بوجھ غریب طبقے پر نہیں پڑنا چاہیے بلکہ صاحب حیثیت اور مراعات یافتہ طبقات کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اشرافیہ کو مثال قائم کرتے ہوئے قربانی دینی چاہیے تاکہ معاشی بوجھ منصفانہ انداز میں تقسیم ہو سکے۔

اجلاس میں اس امر کا بھی جائزہ لیا گیا کہ عالمی حالات کے باعث اگر توانائی کی ترسیل یا قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پیدا ہوتا ہے تو اس سے نمٹنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے۔

شرکاء نے ضروری اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنانے اور توانائی کے شعبے میں ممکنہ رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا۔

اجلاس میں وفاقی کابینہ کے اہم ارکان اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی محمد اورنگزیب اور وزیر داخلہ احسن اقبال سمیت دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔

اس کے علاوہ چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور صوبائی حکومتوں کی تیاریوں کے بارے میں بریفنگ دی۔

اجلاس کے اختتام پر وزیر اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت عالمی حالات کے تناظر میں معیشت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی اور عوام کو ممکنہ معاشی اثرات سے بچانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں