نیوز ڈیسک (ایم این این) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں امریکا کا اثر و رسوخ ہوگا اور جو بھی رہنما واشنگٹن کی منظوری کے بغیر منتخب ہوگا وہ زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہ سکے گا۔
ٹرمپ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اطلاعات ملیں کہ ایران کی مجلس خبرگان نے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانشین کے انتخاب کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ کے بعد ہلاک ہو گئے تھے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نہیں چاہتا کہ آئندہ برسوں میں دوبارہ اسی قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے اور واشنگٹن ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
ایران نے امریکی صدر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ نئے رہنما کا انتخاب ایرانی عوام کا حق ہے اور یہ فیصلہ عوام کی منتخب کردہ مجلس خبرگان کرے گی۔
دوسری جانب خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مزید ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات دی ہیں۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خلیجی ممالک سے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ان کی سرزمین سے ایران پر حملے نہ کیے جائیں تو ایران بھی حملے روک سکتا ہے۔
ادھر امریکا اور اسرائیل نے ایران میں حملوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے تہران میں پہلی مرتبہ آئل ذخائر اور ریفائنریوں کو نشانہ بنایا۔
ایران کی جانب سے بھی جوابی کارروائیاں جاری ہیں اور ایک ڈرون حملے میں بحرین کے ایک واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نقصان پہنچا، جبکہ بیروت، لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے۔
ساتواں امریکی فوجی ہلاک
امریکی فوج کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد ساتواں امریکی فوجی بھی ہلاک ہو گیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ فوجی یکم مارچ کو سعودی عرب میں امریکی فوجیوں پر ہونے والے حملے میں زخمی ہوا تھا اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
رپورٹس کے مطابق اس جنگ میں ایران میں ہلاکتوں کی تعداد 1300 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ خلیجی ممالک اور اسرائیل میں بھی کئی افراد مارے گئے ہیں۔
توانائی کی منڈیوں پر خدشات
جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا کہ حکومت بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مسئلے کو عارضی سمجھتی ہے اور توانائی کی فراہمی کے متبادل ذرائع پر غور کر رہی ہے۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا کہ امریکا کے پاس اسٹریٹجک آئل ذخائر موجود ہیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دریں اثنا بدر البوسعیدی، وزیر خارجہ عمان نے خبردار کیا ہے کہ خطہ ایک خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے اور لڑائی میں مزید شدت آ سکتی ہے۔


