ایرانی حملوں کے دوران تصاویر اور افواہیں پھیلانے پر خلیجی ممالک میں سینکڑوں افراد گرفتار

0
3

دوحہ (ایم این این) – قطر کی حکام نے ایرانی حملوں کے دوران تصاویر اور مبینہ طور پر گمراہ کن معلومات پھیلانے کے الزام میں تین سو سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ قطر کی وزارتِ داخلہ نے پیر کے روز اس کارروائی کی تصدیق کی۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق گرفتار افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے ویڈیو کلپس ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر پھیلائیں اور ایسی افواہیں اور غلط معلومات شیئر کیں جو موجودہ کشیدہ صورتحال میں عوامی رائے کو متاثر کر سکتی تھیں اور عوام میں تشویش پیدا کرنے کا باعث بن سکتی تھیں۔

بیان کے مطابق گرفتار افراد مختلف قومیتوں سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں وزارتِ داخلہ کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف کریمنل انویسٹی گیشن کے ماتحت کام کرنے والے محکمہ انسداد اقتصادی و سائبر جرائم نے حراست میں لیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب ایران کی جانب سے خلیجی خطے میں روزانہ کی بنیاد پر ڈرون اور میزائل حملے کیے جا رہے ہیں جن میں ہوائی اڈوں، فوجی اڈوں، توانائی تنصیبات اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

قطر میں یہ گرفتاریاں دراصل خلیجی ممالک کی جانب سے خطے میں جاری کشیدگی کے دوران حساس معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اٹھائے جانے والے وسیع اقدامات کا حصہ ہیں۔

بحرین میں بھی گزشتہ ہفتے چار افراد کو اس الزام میں گرفتار کیا گیا کہ انہوں نے ایرانی حملوں کے اثرات دکھانے والی ویڈیوز بنا کر نشر کیں اور جھوٹی خبریں پھیلائیں۔ بحرین کی وزارتِ داخلہ کے مطابق ایسی سرگرمیاں عوام میں خوف و ہراس پیدا کر سکتی ہیں۔

اسی طرح کویت میں حکام نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ تین افراد کو اس ویڈیو کے باعث گرفتار کیا گیا جس میں وہ ملک کی موجودہ صورتحال کا مذاق اڑا رہے تھے۔

متحدہ عرب امارات میں بھی حکام نے شہریوں کو موبائل پیغامات کے ذریعے خبردار کیا ہے کہ حساس تصاویر شیئر کرنے یا غیر مصدقہ معلومات دوبارہ پوسٹ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

امارات کے اٹارنی جنرل کے دفتر نے اس بات سے بھی خبردار کیا ہے کہ میزائلوں یا گرتے ہوئے ملبے سے ہونے والے نقصان یا حملوں کے مقامات کی تصاویر اور ویڈیوز بنانا یا پھیلانا قانون کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔ یہ بیان امارات نیوز ایجنسی کے ذریعے جاری کیا گیا۔

سعودی عرب نے بھی اسی نوعیت کی تنبیہ جاری کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ معلومات یا حساس ویڈیوز شیئر کرنے سے گریز کریں۔

تاہم حکومتی انتباہات کے باوجود سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور نجی گروپس میں میزائلوں، ڈرون حملوں اور جنگ کے اثرات سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز تیزی سے گردش کر رہی ہیں۔

خلیجی ممالک کے حکام نے واضح کیا ہے کہ موجودہ تنازع کے دوران افواہیں، غلط معلومات یا غیر مجاز ویڈیوز پھیلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں