پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ہر حال میں کھڑا ہوگا، ترجمان وزیر اعظم

0
3

نیوز ڈیسک (ایم این این): وزیر اعظم کے غیر ملکی میڈیا کے ترجمان مشرف زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ہر حال میں کھڑا ہوگا اور دونوں ممالک ایک دوسرے کی مدد کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔

بدھ کے روز بلوم برگ ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مشرف زیدی نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات محض رسمی معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک طویل عرصے سے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کے اصول پر عمل کرتے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سوال یہ نہیں کہ پاکستان سعودی عرب کی مدد کرے گا یا نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی ضرورت سے پہلے ہی ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کی مدد کے لیے ضرور آئے گا، چاہے حالات جیسے بھی ہوں اور جب بھی ضرورت پڑے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے اور خطے میں بڑے تنازع کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

مشرف زیدی نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کیا اقدامات کر رہا ہے تاکہ صورتحال اس حد تک نہ بڑھے کہ اس کے قریبی اتحادی کسی بڑے تنازع میں الجھ جائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت اس حوالے سے مسلسل سفارتی رابطوں میں مصروف ہے تاکہ خطے میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

انہوں نے آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورہ سعودی عرب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور ایران دونوں کی قیادت سے رابطے میں ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے امریکی قیادت کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں۔

مشرف زیدی کے مطابق گزشتہ چند دنوں کے دوران مختلف ممالک کے درمیان کئی اہم سفارتی رابطے ہوئے ہیں۔

انہوں نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دباؤ کے باوجود خود کو تنازع میں براہ راست شامل ہونے سے روکے رکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض حلقوں کی جانب سے خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کو جنگ میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیلیں کی گئیں تاہم ان ممالک نے اب تک تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔

مشرف زیدی نے کہا کہ پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ خطے میں مزید کشیدگی نہ بڑھے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان سعودی عرب کو فوجی امداد دینے کے کتنے قریب ہے تو انہوں نے اس بارے میں قیاس آرائی سے گریز کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی بات کرنا غیر ذمہ دارانہ ہوگا تاہم پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعاون پر کوئی سوال نہیں اٹھتا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پہلے ہی پاکستان کی سپلائی چین کے استحکام میں مدد فراہم کر رہا ہے اور تیل، ڈیزل اور خام تیل کی فراہمی میں تعاون کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات رسمی معاہدوں کے ساتھ ساتھ تاریخی اور غیر رسمی روابط پر بھی مبنی ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ریاض میں اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

دوسری جانب نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے حال ہی میں انکشاف کیا تھا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں نے ایران کی جانب سے سعودی عرب پر ممکنہ مزید شدید حملوں کو روکنے میں کردار ادا کیا۔

گزشتہ ہفتے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان سے ملاقات بھی کی جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور ایران کے حملوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مشرف زیدی نے ایران کے ساتھ پاکستان کے روابط پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے کے تمام ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان کئی بار رابطے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہی سفارتی کوششوں کے باعث ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کے ساتھ مفاہمتی رویہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مشرف زیدی نے کہا کہ پاکستان نہیں چاہتا کہ اس کے دوست ممالک آپس میں تنازعات میں الجھیں اور نہ ہی بے گناہ لوگوں کی جانیں ضائع ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہر تنازع کا حل مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان یہ بھی نہیں چاہتا کہ ایران خلیجی ممالک پر حملے کرے یا ایرانی عوام کو بمباری کا سامنا کرنا پڑے۔

انٹرویو کے دوران مشرف زیدی نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث پیدا ہونے والے عالمی ایندھن بحران پر بھی بات کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت ایندھن کی فراہمی مستحکم ہے تاہم پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے مشکل ثابت ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ممکنہ بحران کے پیش نظر پہلے ہی مشکل فیصلے کیے تھے تاکہ سپلائی چین متاثر نہ ہو۔

ان کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل تھا جس نے ممکنہ عالمی بحران کو دیکھتے ہوئے پہلے ہی ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس فیصلے پر حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا مگر اس سے ملک کی ایندھن سپلائی محفوظ بنانے میں مدد ملی۔

مشرف زیدی نے کہا کہ متبادل سپلائی چین کے ذریعے تیل کی ترسیل کو پاکستان پہنچنے میں اٹھارہ سے بیس دن لگ سکتے ہیں جبکہ عام حالات میں یہ مدت پانچ سے چھ دن ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے توانائی بچانے کے لیے کفایت شعاری اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں جن میں چار روزہ ورک ویک، گھر سے کام کرنے کی پالیسی اور سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں نمایاں کمی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر بحران تبدیلی کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اولین ذمہ داری اپنے سمندری حدود کا تحفظ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاک بحریہ پاکستانی سمندری حدود میں پہلے ہی جہازوں کو سیکیورٹی فراہم کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں کسی قسم کی توسیع کی ضرورت پڑی تو وہ بین الاقوامی یا کثیر الجہتی سطح پر طے کی جائے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت پاکستان آبنائے ہرمز میں کسی قسم کے حفاظتی مشن میں شامل ہونے پر غور نہیں کر رہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چند دنوں سے حکومت پاکستانی سمندری حدود میں جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں