نیویارک (ایم این این): اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بدھ کے روز بحرین کی جانب سے پیش کی گئی ایک قرارداد منظور کر لی جس میں خلیجی ممالک پر ایران کے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔
یہ حملے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنا کر کیے گئے تھے جو ایران کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے ایران پر اٹھائیس فروری سے جاری حملوں کے ردعمل میں کیے گئے۔
ان حملوں کے آغاز میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی ایک فضائی حملے میں جاں بحق ہو گئے تھے جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا۔
سلامتی کونسل میں پیش کی گئی یہ قرارداد خلیج تعاون کونسل کی جانب سے بحرین نے تیار کی تھی جسے ایک سو پینتیس ممالک کی غیر معمولی حمایت حاصل ہوئی۔
اس طرح یہ قرارداد سلامتی کونسل کی تاریخ میں سب سے زیادہ مشترکہ حمایت حاصل کرنے والی قرارداد بن گئی جبکہ اس سے قبل دو ہزار چودہ میں ایبولا کے بحران سے متعلق قرارداد کو ایک سو چونتیس ممالک کی حمایت حاصل ہوئی تھی۔
پاکستان بھی اس قرارداد کے مشترکہ حامیوں میں شامل تھا اور اس نے ووٹنگ کے دوران اس کے حق میں ووٹ دیا۔
پاکستان نے کہا کہ وہ ایسے حملوں سے محفوظ نہیں ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔
پندرہ رکنی سلامتی کونسل میں اس قرارداد کے حق میں تیرہ ووٹ آئے جبکہ چین اور روس نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
قرارداد کے متن میں ایران کی جانب سے بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن کے خلاف کیے گئے حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کے حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
سلامتی کونسل نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر خلیجی ممالک اور اردن کے خلاف تمام حملے بند کرے۔
قرارداد میں اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل اکیاون کے تحت ان ممالک کے انفرادی اور اجتماعی دفاع کے حق کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ قرارداد میں شہریوں، اہم تنصیبات اور تجارتی جہازوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
خصوصاً آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں ہونے والے حملوں کو عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور سمندری سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔
سلامتی کونسل نے خلیج تعاون کونسل کے ممالک اور دیگر علاقائی فریقوں کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے جاری ثالثی کوششوں کو بھی سراہا۔
کونسل نے زور دیا کہ خطے میں مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔
سلامتی کونسل نے مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے خلیجی ممالک اور اردن کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اٹھائیس فروری کو ایران پر کیے گئے حملوں نے خطے میں ایک خطرناک صورتحال پیدا کر دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ان حملوں کی بھی مذمت کی تھی کیونکہ اس سے عالمی امن اور سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات میں ہونے والے حملوں میں کم از کم دو پاکستانی شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔
ان کے مطابق جاری کشیدگی کے باعث ایندھن کی فراہمی اور فضائی رابطوں کا نظام بھی متاثر ہوا ہے۔
پاکستان نے مطالبہ کیا کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے فوری طور پر سفارت کاری اور مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔
فرانس کے نمائندے جیروم بونافون نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ایران نے جنگ کے دائرہ کار کو وسیع کر دیا ہے اور موجودہ کشیدگی کی بڑی ذمہ داری تہران پر عائد ہوتی ہے۔
بحرین کے سفیر جمال فارس الروائی نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی خطہ عالمی تجارت، سلامتی اور اقتصادی استحکام کا اہم ستون ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس خطے کے امن کا تحفظ پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔
برطانیہ کے نمائندے جیمز کاریوکی نے بھی ایران کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے خطے میں بڑے تصادم کو جنم دے سکتے ہیں۔
اجلاس کے دوران روس نے بھی مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے حوالے سے ایک الگ قرارداد پیش کی تاہم امریکا نے اسے ویٹو کر دیا۔
روس کی قرارداد کے حق میں روس، چین، صومالیہ اور پاکستان نے ووٹ دیا جبکہ امریکا اور لٹویا نے مخالفت کی۔
نو ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جن میں برطانیہ، فرانس اور بحرین سمیت دیگر ممالک شامل تھے۔
اجلاس میں لبنان نے بھی بتایا کہ وہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری تنازع میں غیر ارادی طور پر شامل ہو گیا ہے۔
لبنانی سفیر احمد عرافہ نے کہا کہ فضائی حملوں اور انخلا کی وارننگز کے باعث تقریباً دس لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
پاکستان نے لبنان کی خودمختاری کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے جنوبی لبنان میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو غیر قانونی قرار دیا اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
پاکستانی سفارت کار عثمان جدون نے کہا کہ مزید علاقائی عدم استحکام سے بچنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دینا ہوگی۔
امریکا نے اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کی جبکہ چین اور روس نے فوری جنگ بندی پر زور دیا۔
فرانس نے بھی شہریوں کو پہنچنے والے نقصانات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ لبنان کی خودمختاری کا احترام کریں اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔


