نیوز ڈیسک (ایم این این): پاکستان کے لیگ اسپنر ابرار احمد کو جمعرات کے روز سن رائزرز لیڈز نے دی ہنڈرڈ کے پلیئر آکشن میں ایک لاکھ نوے ہزار پاؤنڈ میں خرید لیا، جس سے یہ خدشات کسی حد تک کم ہو گئے کہ سیاسی کشیدگی کے باعث پاکستانی کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔
سن رائزرز لیڈز کا تعلق انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم سن رائزرز حیدرآباد کے مالکان سے ہے۔
گزشتہ ماہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے واضح کیا تھا کہ دی ہنڈرڈ کی تمام آٹھ فرنچائزز کھلاڑیوں کا انتخاب صرف کارکردگی کی بنیاد پر کریں گی۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان طویل عرصے سے جاری سیاسی کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کی ٹیمیں عموماً صرف بڑے عالمی ٹورنامنٹس میں ہی ایک دوسرے کے مدمقابل آتی ہیں۔
اسی کشیدگی کے باعث پاکستانی کرکٹرز دو ہزار نو کے بعد سے انڈین پریمیئر لیگ میں شرکت نہیں کر رہے۔
دوسری جانب خواتین کے آکشن میں پاکستان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر رہی۔ بدھ کے روز ہونے والے آکشن میں شامل پاکستانی کھلاڑی فاطمہ ثناء اور سعدیہ اقبال کو کسی ٹیم نے نہیں خریدا۔
پاکستان کے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے مردوں کے آکشن سے قبل اپنا نام واپس لے لیا تھا، جبکہ فاسٹ بولر حارث رؤف کو ایک لاکھ پاؤنڈ کی بنیادی قیمت پر بھی کوئی خریدار نہ مل سکا۔
تاہم پاکستان کے ایک اور اسپنر عثمان طارق کو برمنگھم فینکس نے ایک لاکھ چالیس ہزار پاؤنڈ میں خرید لیا۔
آکشن کے دوران دیگر نمایاں خریداریوں میں لندن اسپرٹ نے انگلینڈ کے آل راؤنڈر جیمز کول کو تین لاکھ نوے ہزار پاؤنڈ میں خریدا جبکہ ویلش فائر نے بیٹر جارڈن کاکس اور سابق انگلش کپتان جو روٹ کو مجموعی طور پر پانچ لاکھ چالیس ہزار پاؤنڈ میں حاصل کیا۔
دی ہنڈرڈ لیگ میں پہلی بار کھلاڑیوں کے انتخاب کے لیے آکشن کا طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے، اس سے پہلے ڈرافٹ سسٹم کے ذریعے ٹیمیں تشکیل دی جاتی تھیں۔
گزشتہ سال اس ٹورنامنٹ کی آٹھوں فرنچائزز میں حصص نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کیے گئے تھے جس سے انگلینڈ اور ویلز میں کرکٹ کے لیے بڑی مالی آمدنی حاصل ہوئی۔
دی ہنڈرڈ کا دو ہزار چھبیس ایڈیشن، جس میں مردوں اور خواتین دونوں کے مقابلے شامل ہوں گے، اکیس جولائی سے شروع ہوگا اور چار ہفتوں تک جاری رہے گا۔


