باجوڑ میں افغان سرحد پار مارٹر حملہ، چار بھائی شہید، پانچ سالہ بچہ شدید زخمی، پاکستان کا جوابی آپریشن

0
4

نیوز ڈیسک (ایم این این) – خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں افغان سرحد پار سے داغے گئے مارٹر گولوں کے نتیجے میں چار سگے بھائی شہید جبکہ ایک پانچ سالہ بچہ شدید زخمی ہو گیا۔

مقامی انتظامیہ اور سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ حملہ اتوار کے روز باجوڑ کے علاقے سالارزئی میں کیا گیا جہاں مارٹر گولہ ایک رہائشی مکان پر آ گرا۔

حکام کے مطابق حملے میں چار بھائی ساجد، ایاز، ریاض اور معاذ موقع پر ہی شہید ہو گئے جبکہ گھر میں موجود پانچ سالہ بچہ شدید زخمی ہو گیا جسے فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ حملہ افغان طالبان کی جانب سے سرحد پار تبستہ لٹئی نامی مقام سے کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شہری آبادی کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے حملے کے ذمہ دار ٹھکانوں کو فوری طور پر نشانہ بنایا اور علاقے میں اضافی نفری بھی تعینات کر دی گئی۔

مقامی رہائشیوں اور حکام نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پرامن شہریوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔

واقعے کے بعد باجوڑ کی سرحدی پٹی میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

دوسری جانب پاکستانی فوج نے افغانستان کے صوبہ قندھار میں رات کے وقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائیاں آپریشن غضب للحق کے تحت کی جا رہی ہیں۔

سرکاری نشریاتی ادارے پاکستان ٹیلی وژن کے مطابق ان حملوں میں افغان طالبان اور ان سے منسلک شدت پسند گروہوں کی وہ تنصیبات نشانہ بنائی گئیں جو پاکستانی شہریوں کے خلاف کارروائیوں میں استعمال ہو رہی تھیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے کئی ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔ فتنہ الخوارج سے مراد کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کو قرار دیا جاتا ہے۔

حکام کے مطابق قندھار میں دہشت گردوں کے تکنیکی معاونت کے مراکز اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کی ایک بڑی تنصیب بھی تباہ کی گئی جو سرحد پار دہشت گردی کی سرگرمیوں میں استعمال ہو رہی تھی۔

ایک اور کارروائی میں قندھار میں ایک سرنگ کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں دہشت گردوں کے زیر استعمال تکنیکی آلات موجود تھے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن غضب للحق اپنے مقاصد کے حصول تک جاری رہے گا۔

یہ کشیدگی اس واقعے کے بعد مزید بڑھ گئی جب جمعہ کی شام افغان طالبان کی جانب سے چند سادہ نوعیت کے ڈرون بھی پاکستان کی جانب بھیجے گئے تھے جن کے نتیجے میں دو بچوں سمیت چار افراد زخمی ہو گئے تھے۔

وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں قندھار میں ہونے والی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی ویڈیو بھی جاری کی۔

انہوں نے کہا کہ چودہ اور پندرہ مارچ کی درمیانی شب پاکستان کی مسلح افواج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں سمیت عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

ان کے مطابق ان حملوں میں دہشت گردوں کی تکنیکی معاونت کا ڈھانچہ اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کی تنصیبات بھی تباہ کر دی گئیں جو معصوم پاکستانی شہریوں کے خلاف استعمال کی جا رہی تھیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ کارروائی کے دوران صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور کسی شہری آبادی یا بنیادی ڈھانچے کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔

وزیر اطلاعات کے مطابق جاری آپریشن کے دوران اب تک چھ سو چوراسی افغان طالبان اہلکار ہلاک جبکہ نو سو بارہ سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دو سو باون چوکیوں کو تباہ کیا گیا جبکہ چوالیس چوکیوں پر قبضہ کرنے کے بعد انہیں بھی تباہ کر دیا گیا۔

ان کے مطابق دو سو انتیس ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں بھی تباہ کی جا چکی ہیں جبکہ افغانستان کے اندر دہشت گردوں اور ان کے معاون ڈھانچے کے تہتر مقامات کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔

دریں اثنا آپریشن کے دوران افغانستان میں واقع بدینی پوسٹ پر موجود دہشت گردوں کے ایک اہم ٹھکانے کو بھی زمینی کارروائی میں تباہ کر دیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی خیبر پختونخوا کے ضلع چترال سے پاک افغان سرحد کے قریب ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کے ذریعے کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ مختلف زمینی ہتھیاروں اور بغیر پائلٹ پرواز کرنے والے آلات کے ذریعے اس چوکی کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ افغان طالبان اور دہشت گرد گروہوں کو پاکستان کی کارروائیوں کے نتیجے میں مختلف محاذوں پر بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ باجوڑ کے علاقے سالارزئی میں تبستہ لٹئی سے افغان طالبان کی جانب سے مارٹر اور توپ خانے کے ذریعے شہری آبادی کو دانستہ نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس حملے میں چار بے گناہ شہری شہید جبکہ ایک پانچ سالہ بچہ شدید زخمی ہوا۔

ضلع پولیس کے ترجمان اسرار خان کے مطابق واقعے کے بعد قریبی دیہات کے لوگ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالا۔

انہوں نے بتایا کہ سالارزئی تھانے کی پولیس ٹیم نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، تباہ شدہ مکان کا معائنہ کیا اور شواہد جمع کیے۔

وزیر اطلاعات نے اس واقعے کو بزدلانہ اور انسانیت کے خلاف اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں