نیتن یاہو نے موت کی افواہوں کے بعد ویڈیو جاری کر دی

0
3

نیوز ڈیسک (ایم این این) – اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پر اپنی موت سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں کے بعد ایک ویڈیو جاری کی ہے جسے ان افواہوں کا جواب قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ ویڈیو اتوار کی شام ان کے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس کے اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی جس میں وہ خود کے لیے کافی تیار کرتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ پس منظر میں موجود ایک شخص ان سے ان کی موت سے متعلق پھیلنے والی خبروں کے بارے میں سوال کرتا ہے۔

ویڈیو کے ساتھ تحریر کیا گیا: “وہ کہتے ہیں کہ میں کیا ہوں؟”

اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق ویڈیو میں ہونے والی گفتگو عبرانی زبان میں ہے جس میں نیتن یاہو کہتے ہیں کہ انہیں کافی پسند ہے اور وہ اپنے ملک سے بھی محبت کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق انہوں نے گفتگو کے دوران عبرانی زبان کا ایک عام بول چال کا لفظ “میت” استعمال کیا جو بعض مواقع پر محبت کے اظہار کے لیے بولا جاتا ہے تاہم یہی لفظ عبرانی زبان میں “مردہ” کے معنی بھی رکھتا ہے۔ اس جملے کو مزاحیہ انداز میں یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ کافی کے لیے “مرتے ہیں”۔

ویڈیو کے ایک اور حصے میں نیتن یاہو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان قیاس آرائیوں کا مذاق اڑاتے دکھائی دیتے ہیں جن میں کہا جا رہا تھا کہ ان کی ایک حالیہ ویڈیو مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ہے۔

وہ ویڈیو بنانے والے شخص سے کہتے ہیں کہ کیا وہ ان کی انگلیاں گننا چاہیں گے اور پھر دونوں ہاتھ کیمرے کے سامنے اٹھا دیتے ہیں۔

یروشلم پوسٹ کے مطابق یہ اقدام ان افواہوں کے جواب میں کیا گیا جن میں کچھ سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا تھا کہ جمعہ کو جاری ہونے والی ویڈیو میں ان کے ہاتھ میں چھ انگلیاں نظر آ رہی تھیں اور اسی بنیاد پر بعض لوگوں نے قیاس آرائیاں شروع کر دی تھیں کہ ویڈیو مصنوعی طریقے سے تیار کی گئی ہے۔

اس سے قبل نیتن یاہو کے دفتر نے بھی سوشل میڈیا پر پھیلنے والے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا تھا جن میں کہا جا رہا تھا کہ ایران کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں انہیں قتل کر دیا گیا ہے۔

ترک خبر رساں ادارے انادولو کے ایک صحافی نے وزیراعظم کے دفتر سے سوال کیا تھا کہ سوشل میڈیا پر بڑھتے ہوئے ان دعوؤں کے بارے میں ان کا کیا مؤقف ہے کہ نیتن یاہو کو قتل کر دیا گیا ہے۔

وزیراعظم کے دفتر نے جواب دیا کہ یہ تمام خبریں جھوٹی ہیں اور وزیراعظم خیریت سے ہیں۔

یہ افواہیں اس وقت پھیلنا شروع ہوئیں جب سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو حالیہ دنوں میں جنگی کونسل کے ایک اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

کچھ افراد نے ان کی ایک ویڈیو کا حوالہ بھی دیا جو ان کے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی تھی اور دعویٰ کیا کہ اس ویڈیو میں ان کے ہاتھ میں چھ انگلیاں دکھائی دے رہی ہیں، جس کے بعد مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔

یہ تمام قیاس آرائیاں ایسے وقت سامنے آئیں جب مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے خطے میں شدید کشیدگی پیدا کر دی ہے۔ یہ جنگ اٹھائیس فروری کو اس وقت شروع ہوئی جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے۔

اسی دن ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی امریکا اور اسرائیل کے حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

ادھر ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بھی نیتن یاہو کو نشانہ بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کی ویب سائٹ سپاہ نیوز پر جاری بیان میں کہا گیا کہ اگر یہ بچوں کا قاتل مجرم زندہ ہے تو اسے پوری طاقت کے ساتھ تلاش کر کے مارنے کی کوشش جاری رکھی جائے گی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں