اسلام آباد (ایم این این) – پاکستان نے منگل کے روز افغان طالبان کی جانب سے کابل میں اسپتال پر حملے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نشانہ کیمپ فینکس تھا جو مذکورہ اسپتال سے کئی کلومیٹر دور واقع ہے۔
یہ پیش رفت آپریشن غضب للحق کے دوران سامنے آئی ہے، جو 26 فروری کو سرحد پار سے فائرنگ کے بعد شروع کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
وزارت اطلاعات کی فیکٹ چیک رپورٹ کے مطابق امید اسپتال، جس کا دعویٰ کیا گیا، اصل ہدف سے کافی فاصلے پر واقع ہے، جبکہ نشانہ بننے والی جگہ اسلحہ اور فوجی سازوسامان کا ذخیرہ تھی۔ سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے دونوں مقامات کے فرق کو واضح کیا گیا۔
حکام نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ مبینہ بحالی مرکز کسی فوجی کیمپ میں اسلحہ گودام کے ساتھ کیسے موجود ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، طالبان کی جانب سے سوشل میڈیا پوسٹ حذف کرنے اور پرانی تصویر کو ثبوت کے طور پر پیش کرنے کو بھی بے نقاب کیا گیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان صرف ان فوجی اور دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے جو ملک کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کارروائیاں انتہائی درست اور پیشہ ورانہ انداز میں کی گئیں اور کسی اسپتال یا شہری تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ جاری کردہ ویڈیوز سے واضح ہے کہ اسلحہ ڈپو کو کامیابی سے تباہ کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔
دریں اثنا چین نے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے اور کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔
اقوام متحدہ اقوام متحدہ نے بھی واقعے کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی افواج نے خیبر سیکٹر کے قریب افغان طالبان کی چوکیاں بھی تباہ کیں جبکہ شمالی وزیرستان میں بھی کارروائیاں کر کے انہیں نقصان پہنچایا گیا۔


