کراچی (ایم این این) – کراچی میں بدھ کی رات آنے والی شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں دیواریں اور چھتیں گرنے سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔
محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق یہ صورتحال مغربی ہواؤں کے سلسلے کے باعث پیدا ہوئی جو ملک کے بیشتر حصوں کو متاثر کر رہا ہے۔
ایڈیشنل آئی جی پولیس آزاد خان کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں سعید آباد میں دیوار گرنے کے واقعے میں ہوئیں جہاں 13 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ قائد آباد میں بھی دیوار گرنے سے 2 افراد جان سے گئے۔ کیماڑی میں اسی نوعیت کے واقعے میں 2 افراد زخمی ہوئے۔
گلستانِ جوہر میں چھت گرنے سے ایک شخص جاں بحق اور 3 زخمی ہوئے، جبکہ اورنگی ٹاؤن کے مومن آباد علاقے میں ایک شخص جاں بحق اور 2 زخمی ہوئے۔ ملیر کے سخن علاقے میں بھی ایک شخص چھت گرنے سے جاں بحق ہوا۔
کلفٹن میں تیز ہواؤں کے باعث اڑنے والے ملبے سے ایک شخص جاں بحق اور ایک زخمی ہوا، جبکہ شاہ لطیف ٹاؤن میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک شخص جان کی بازی ہار گیا۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ شہر میں 55 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، تاہم زیادہ تر شہر معمول کے مطابق چل رہا ہے اور صرف کچھ علاقوں میں پانی جمع ہونے کے مسائل ہیں۔
محکمہ موسمیات نے جمعرات کو مزید بارش کی پیشگوئی کی ہے، جبکہ جمعہ کو موسم بہتر ہونے کا امکان ہے۔ ہفتہ، جو ممکنہ طور پر عیدالفطر کا پہلا دن ہو سکتا ہے، میں دوبارہ ابر آلود موسم اور ہلکی بارش کا امکان ہے۔
دریں اثنا، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو صورتحال پر بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ مختلف ادارے سڑکوں کی بحالی اور عوام کی حفاظت کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ہر مشکل وقت میں عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ شدید موسم کے باعث درخت جڑ سے اکھڑ گئے، انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا اور بجلی کے کھمبے خطرناک حد تک جھک گئے۔
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، ٹریفک پولیس اور کے الیکٹرک سمیت مختلف اداروں نے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں بیشتر بڑی سڑکیں جلد بحال کر دی گئیں جبکہ متاثرہ علاقوں میں کام جاری ہے۔


