برطانیہ میں مسلم اجتماعی نماز پر پابندی کی تجویز، نائجل فاریج کے بیان پر تنازع

0
1

لندن (ایم این این) – برطانیہ کے دائیں بازو کے سیاستدان نائجل فاریج نے اعلان کیا ہے کہ اگر وہ وزیرِاعظم بنے تو تاریخی مقامات پر مسلمانوں کی اجتماعی نماز پر پابندی عائد کریں گے، جس کے بعد سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔

ریفارم یو کے کے سربراہ فاریج نے ٹرافلگر اسکوائر میں منعقد ہونے والے اوپن افطار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے برطانوی معاشرے کو “مرعوب اور غالب کرنے کی کوشش” قرار دیا۔

اسکاٹ لینڈ کے دورے کے دوران انہوں نے کہا کہ تاریخی عوامی مقامات پر بڑے پیمانے پر مذہبی اجتماعات پر پابندی ہونی چاہیے، خاص طور پر مسلم اجتماعی نماز پر۔

یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے افطار کی مخالفت کرنے والے کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ پر تنقید کی۔

کنزرویٹو رہنما نک ٹموتھی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ عوامی مقامات پر اجتماعی نماز “غلبے کا اظہار” ہے اور ایسے مذہبی رسومات مساجد تک محدود رہنی چاہئیں۔

اس پر اسٹارمر نے کنزرویٹو پارٹی کی رہنما کیمی بیڈنوک سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹموتھی کے خلاف کارروائی کریں، جبکہ بیڈنوک نے کہا کہ عوامی مقامات پر مذہبی تقریبات ہونی چاہئیں لیکن وہ برطانوی ثقافت کے مطابق اور سب کے لیے قابل قبول ہوں۔

لندن کے میئر صادق خان، جو خود بھی اس افطار میں شریک تھے، نے ان بیانات کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تقسیم پیدا کرنے کی کوشش ہے۔

ٹرافلگر اسکوائر لندن کا ایک اہم عوامی مقام ہے جہاں ثقافتی، سیاسی اور مذہبی تقریبات باقاعدگی سے منعقد ہوتی ہیں، اور یہی معاملہ برطانیہ میں بڑھتی ہوئی ثقافتی بحث کا حصہ بن چکا ہے۔

یہ تنازع برطانوی سیاست میں بڑھتی ہوئی “ثقافتی جنگ” کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ آئندہ عام انتخابات 2029 میں متوقع ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں