ملک بھر میں 24 سے 30 مارچ تک بارشوں اور گرج چمک کی پیشگوئی، سیلاب اور ژالہ باری کا خدشہ

0
3

ویب ڈیسک (ایم این این): محکمہ موسمیات پاکستان نے 24 سے 30 مارچ تک ملک بھر میں وقفے وقفے سے بارشوں اور گرج چمک کی پیشگوئی کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مغربی ہواؤں کا ایک مضبوط سلسلہ موسم کو متاثر کرے گا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق یہ سسٹم 24 مارچ کی شام بلوچستان کے جنوب مغربی علاقوں میں داخل ہوگا اور 27 مارچ کی رات سے شدت اختیار کرتے ہوئے 31 مارچ تک برقرار رہ سکتا ہے۔

اس کے زیرِ اثر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش اور بعض مقامات پر موسلادھار بارش اور ژالہ باری کا امکان ہے، جن میں پنجگور، تربت، گوادر، کوئٹہ، خضدار، چمن اور ژوب شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقوں میں 25 اور 26 مارچ کے دوران بارش اور پہاڑی علاقوں میں برفباری متوقع ہے، جبکہ 28 سے 30 مارچ کے دوران مزید شدت کے ساتھ بارشوں کا امکان ہے۔

پنجاب کے مختلف شہروں جن میں لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان، سیالکوٹ اور بہاولپور شامل ہیں، میں بھی 25 سے 26 مارچ اور پھر 28 سے 30 مارچ کے دوران بارش، تیز ہواؤں اور بعض مقامات پر ژالہ باری کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ مری، گلیات اور اسلام آباد میں بھی اسی نوعیت کا موسم متوقع ہے۔

سندھ کے علاقوں کراچی، حیدرآباد، سکھر اور ٹھٹھہ میں بھی 25 اور 26 مارچ کے ساتھ ساتھ 28 اور 29 مارچ کو بارش اور گرج چمک کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

گلگت بلتستان اور کشمیر کے علاقوں میں بارش اور پہاڑوں پر برفباری متوقع ہے، جبکہ بعض مقامات پر شدید بارش اور ژالہ باری کا بھی خدشہ ہے۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر کے حساس علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے، جبکہ بلوچستان میں 25 سے 28 مارچ کے دوران اور خیبر پختونخوا کے ندی نالوں میں 28 سے 30 مارچ کے دوران سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

تیز آندھی، ژالہ باری اور آسمانی بجلی کے باعث کمزور عمارتوں، بجلی کے کھمبوں، سائن بورڈز اور سولر پینلز کو نقصان پہنچنے کا بھی خدشہ ہے، جبکہ فصلوں کو بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔

کاشتکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موجودہ موسمی صورتحال کے مطابق اپنی فصلوں کا خیال رکھیں، جبکہ سیاحوں اور مسافروں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

متعلقہ اداروں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہیں اور ضروری اقدامات کریں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں