ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات کا دعویٰ، آبنائے ہرمز کھولنے کی مہلت میں پانچ دن کی توسیع

0
3

نیوز ڈیسک (ایم این این): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران کی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہے اور تہران جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے، جبکہ انہوں نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دی گئی مہلت میں مزید پانچ دن کی توسیع کر دی ہے۔

ٹرمپ کے مطابق ایران کو اضافی وقت دیا گیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دے، بصورت دیگر ایرانی بجلی گھروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے حالیہ رابطوں کو “انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز” قرار دیا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر نے ایک ایرانی شخصیت سے بات چیت کی، تاہم انہوں نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر نام ظاہر نہیں کیا۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایسی خبروں کو “جھوٹی اطلاعات” قرار دیا، جبکہ وزارت خارجہ نے بھی کہا کہ امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو امریکہ ایران کے افزودہ یورینیم کو اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کرے گا، تاہم ایران اس مطالبے کو پہلے ہی مسترد کر چکا ہے اور پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کو اپنا حق قرار دیتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے خود امریکہ سے رابطہ کیا ہے۔

ان بیانات کے بعد عالمی منڈیوں پر فوری اثر پڑا، جہاں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی جبکہ اسٹاک مارکیٹ میں بہتری دیکھی گئی۔

ادھر خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ جوابی کارروائی میں توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتا ہے اور خلیجی پانیوں میں بارودی سرنگیں بچھا سکتا ہے، جبکہ اسرائیل نے ایران پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہ تنازع 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہوا تھا، جس میں اب تک دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور عالمی توانائی بحران کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں