نیوز ڈیسک (ایم این این) – ایران نے امریکہ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کیلئے پیش کی گئی تجویز کو مسترد کر دیا ہے، سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی نے ایک اعلیٰ سیاسی و سکیورٹی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا۔
رپورٹ کے مطابق تہران نے اس تجویز کا منفی جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ امریکی صدر Donald Trump کو جنگ کے خاتمے کا وقت طے کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اطلاعات تھیں کہ پاکستان نے امریکہ کا پیغام ایران تک پہنچایا، جبکہ پاکستان یا ترکیہ ممکنہ طور پر مذاکرات کیلئے مقام بن سکتے ہیں۔
عہدیدار کے مطابق ایران جنگ اپنے فیصلے اور اپنی شرائط پوری ہونے پر ہی ختم کرے گا۔ تہران نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ وہ دفاع جاری رکھے گا اور دشمن کو “سخت نقصان” پہنچاتا رہے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکہ مختلف سفارتی ذرائع سے مذاکرات کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ایران ان تجاویز کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتا ہے۔
ایران نے جنگ کے خاتمے کیلئے پانچ اہم شرائط پیش کیں، جن میں شامل ہیں:
- جارحیت اور ٹارگٹ کلنگ کا مکمل خاتمہ
- مستقبل میں جنگ روکنے کیلئے مؤثر نظام
- جنگی نقصانات کا واضح ازالہ
- تمام محاذوں اور اتحادی گروہوں میں مکمل جنگ بندی
- Strait of Hormuz پر ایران کے اختیار کا عالمی اعتراف
عہدیدار کے مطابق یہ شرائط جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے دوران پیش کی گئی سابقہ شرائط کے علاوہ ہیں۔
ایران نے ثالثی کرنے والوں کو بھی آگاہ کیا ہے کہ جنگ بندی صرف اسی صورت ممکن ہے جب اس کی تمام شرائط تسلیم کی جائیں، بصورت دیگر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ایران نے واضح کیا کہ جنگ کا خاتمہ اس کے اپنے فیصلے سے ہوگا۔
دوسری جانب امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن نے ایران کو ایک امن منصوبہ بھیجا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے حوالے سے امید ظاہر کی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اس وقت ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز سے متعلق ایک اہم پیش رفت کا عندیہ دیا، جسے ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں بڑی حد تک بند کر رکھا ہے، جس سے عالمی توانائی کی قیمتیں متاثر ہوئی ہیں۔


