امریکہ ایران بالواسطہ مذاکرات، پاکستان پیغامات پہنچا رہا ہے: اسحاق ڈار

0
2

اسلام آباد (ایم این این) – نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعرات کو کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات پاکستان کے ذریعے پیغامات کی ترسیل سے جاری ہیں۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امن مذاکرات سے متعلق میڈیا میں قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں اور درحقیقت دونوں ممالک کے درمیان رابطہ سفارتی پیغامات کے ذریعے ہو رہا ہے۔

اسحاق ڈار کے مطابق امریکہ نے پندرہ نکاتی تجویز ایران کو دی ہے جس پر تہران میں غور کیا جا رہا ہے، جبکہ ترکیہ اور مصر سمیت دیگر برادر ممالک بھی اس عمل میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے اور دنیا میں امن کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور مکالمہ اور سفارتکاری ہی مسائل کا واحد حل ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا کہ ایرانی مذاکرات کار معاہدے کے لیے بے چین ہیں اور انہیں جلد سنجیدہ ہونا ہوگا۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ایرانی حکام نے تصدیق کی کہ پاکستان نے امریکہ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کی تجویز ایران تک پہنچائی ہے، جس میں جوہری اور میزائل پروگرام پر پابندیاں، علاقائی گروہوں کی حمایت کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کو بحری گزرگاہ کے طور پر کھولنے جیسے نکات شامل ہیں۔

اس کے بدلے ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے اور توانائی کے لیے جوہری پروگرام میں عالمی تعاون کی پیشکش کی گئی ہے۔

تاہم ایرانی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ تہران نے ابتدائی طور پر اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ جنگ کا خاتمہ اپنی شرائط کے مطابق کیا جائے گا، جن میں دشمن کی جارحیت کا خاتمہ، مستقبل میں جنگ نہ ہونے کی ضمانت، نقصانات کا ازالہ اور آبنائے ہرمز پر خودمختاری کا اعتراف شامل ہیں۔

ادھر خبر رساں ادارے کے مطابق ایران ابھی بھی اس تجویز کا جائزہ لے رہا ہے اور اسے مکمل طور پر مسترد نہیں کیا گیا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے مذاکرات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی عسکری صلاحیت کمزور ہو رہی ہے اور امریکہ اپنے اہداف کے قریب ہے۔

اس سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے درمیان بامعنی مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش بھی کی تھی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں