عید کے وقفے کے بعد آپریشن غضب لِلحق دوبارہ شروع، دفتر خارجہ

0
2

اسلام آباد (ایم این این) – دفتر خارجہ نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ افغان طالبان کے خلاف آپریشن غضب لِلحق میں عارضی وقفہ ختم ہو گیا ہے اور کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ یہ ایک ہدفی اور مربوط عسکری کارروائی ہے جو دہشت گرد قیادت، سہولت کاروں، ڈھانچے اور رسد کے نظام کے خلاف جاری ہے اور مقاصد کے حصول تک جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ عارضی وقفہ عیدالفطر کے موقع پر برادر اسلامی ممالک کی درخواست پر کیا گیا تھا جو تئیس اور چوبیس مارچ کی درمیانی شب ختم ہو گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت تک اپنی پالیسی پر قائم رہے گا جب تک افغان طالبان اپنی ترجیحات تبدیل کرتے ہوئے دہشت گردی کی معاونت ختم نہیں کرتے اور افغان عوام کی فلاح کو ترجیح نہیں دیتے۔

اس سے قبل وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اٹھارہ مارچ کو عیدالفطر کے پیش نظر اور اسلامی روایات کے مطابق نیک نیتی کے طور پر عارضی وقفے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی پاکستان کے خلاف کارروائیاں عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ فیصلہ سعودی عرب، ترکیہ اور قطر کی درخواست پر کیا گیا تھا، تاہم دونوں ممالک کے علما کی جانب سے عیدالاضحی تک جنگ بندی بڑھانے کی اپیل کے باوجود کشیدگی برقرار ہے۔

پاکستان نے بارہا تحریک طالبان پاکستان سے منسلک پناہ گاہوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے مگر حکام کے مطابق اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

دوسری جانب طورخم سرحدی گزرگاہ بھی جمعرات کو دوبارہ کھول دی گئی جہاں پھنسے ہوئے اور غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی کا عمل شروع کر دیا گیا۔

لندی کوتل میں واقع عارضی مرکز پر پچاس افغان باشندوں کو سب سے پہلے کلیئرنس دی گئی جبکہ بعد ازاں پشاور سے مزید افراد کو لا کر واپسی کا عمل مکمل کیا گیا۔

حکام کے مطابق بغیر دستاویزات والے خاندانوں کو بھی رجسٹریشن کے بعد افغانستان واپس جانے کی اجازت دی گئی جبکہ دونوں ممالک کے حکام کے درمیان رابطے کے ذریعے سرحد پر محفوظ آمدورفت کو یقینی بنایا گیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں