اسلام آباد (ایم این این): وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی ٹیلیفونک گفتگو میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال اور کشیدگی میں کمی کے لیے جاری اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان ترکی اور مصر کے ساتھ مل کر ثالثی کے عمل میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
وزیراعظم نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف عاصم منیر کے ساتھ مل کر امریکہ، خلیجی اور اسلامی ممالک سے رابطوں کے ذریعے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوششوں سے آگاہ کیا۔
انہوں نے پاکستان کے امن اقدام کی بھرپور بین الاقوامی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اجتماعی کوششوں سے کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہوگا۔ وزیراعظم نے ایران پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور انیس سو سے زائد ہلاکتوں پر تعزیت بھی پیش کی۔
ایرانی صدر نے پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے مذاکرات کے لیے اعتماد سازی کی ضرورت پر زور دیا اور امن کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔
دریں اثنا پاکستان انتیس اور تیس مارچ کو سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کی میزبانی کرے گا جہاں خطے کی کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔ یہ اجلاس پہلے ترکی میں ہونا تھا تاہم پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کے باعث اسے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔
حکام کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطے پاکستان کے ذریعے جاری ہیں جبکہ امریکی پندرہ نکاتی فریم ورک ایران کے زیر غور ہے۔ اقوام متحدہ اور چین نے بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کی ہے۔
ان پیش رفتوں کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات اسلام آباد میں ہو سکتے ہیں۔


