اسلام آباد (ایم این این): نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ہفتہ کی شب اعلان کیا کہ ایران نے پاکستانی پرچم بردار مزید بیس جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ روزانہ دو جہاز اس راستے سے گزر سکیں گے اور اس اقدام کو خطے میں امن اور استحکام کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ایسے اعتماد سازی کے اقدامات، مکالمہ اور سفارتکاری ہی مسائل کا حل ہیں اور یہ پیش رفت علاقائی کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ایک اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً بیس فیصد مائع قدرتی گیس اور ایک چوتھائی سمندری تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ حالیہ جنگ کے باعث اس راستے میں رکاوٹوں نے عالمی ایندھن بحران کو جنم دیا ہے۔
اس سے قبل ایران نے دو پاکستانی کارگو جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی تھی جبکہ سولہ مارچ کو ایک پاکستانی آئل ٹینکر بھی اس راستے سے کامیابی سے گزرا تھا، جو جنگ کے آغاز کے بعد کسی غیر ایرانی ٹینکر کا پہلا سفر تھا۔
یہ پیش رفت وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان حالیہ ٹیلیفونک رابطے کے بعد سامنے آئی، جس میں پاکستان کی سفارتی کوششوں پر بات چیت کی گئی۔
پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مرکزی ثالثی کردار ادا کر رہا ہے، جس میں ترکی اور مصر بھی شامل ہیں۔
دریں اثنا اسلام آباد میں سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس منعقد ہو رہا ہے جس میں خطے میں امن اور کشیدگی میں کمی کے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔


