لاہور قلندرز کے کھلاڑیوں پر سیکیورٹی خلاف ورزی کا الزام، حکام سے کارروائی کا مطالبہ

0
1

لاہور – پاکستان سپر لیگ کے دوران لاہور قلندرز کے کھلاڑیوں کی جانب سے مبینہ سیکیورٹی خلاف ورزی کا معاملہ سامنے آنے پر لاہور پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے حکام کو خط لکھ کر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

لاہور کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آپریشنز محمد فیصل نے اس واقعے کو پاکستان سپر لیگ انتظامیہ کے نوٹس میں لاتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات مستقبل میں روکنے کیلئے فوری اقدامات ضروری ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ 28 مارچ 2026 کی رات لاہور کے ایک ہوٹل میں پیش آیا جہاں تمام پی ایس ایل ٹیمیں سخت سیکیورٹی انتظامات کے تحت مقیم ہیں۔

خط میں بتایا گیا کہ رات تقریباً 10 بج کر 35 منٹ پر لاہور قلندرز کے لائژن افسر نے پی سی بی کے سیکیورٹی اہلکار سے سکندر رضا کے چار رشتہ داروں کو ان کے کمرے میں آنے کی اجازت طلب کی، تاہم سیکیورٹی قواعد کے تحت یہ درخواست مسترد کر دی گئی۔

بعد ازاں لاہور قلندرز کے مالک ثمین رانا نے بھی یہی درخواست کی، لیکن اسے بھی سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر مسترد کر دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے باوجود رات تقریباً 11 بج کر 5 منٹ پر شاہین شاہ آفریدی اور سکندر رضا نے سیکیورٹی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے چار افراد کو زبردستی کمرے میں داخل کرایا، حالانکہ موقع پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں نے مزاحمت کی۔

یہ افراد تقریباً رات ڈیڑھ بجے تک کمرے میں موجود رہے۔

حکام کے مطابق یہ واقعہ پی سی بی کے سیکیورٹی قواعد اور ضابطہ اخلاق کی واضح خلاف ورزی ہے، جو کھلاڑیوں اور دیگر افراد کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے بنائے گئے ہیں۔

ڈی آئی جی نے اپنے خط میں اس واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ اس بات پر زور دیا ہے کہ سیکیورٹی اصولوں پر سختی سے عملدرآمد ناگزیر ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

پاکستان سپر لیگ میں بین الاقوامی کھلاڑیوں کی شرکت کے باعث سیکیورٹی انتظامات انتہائی اہمیت رکھتے ہیں، اور اس طرح کے واقعات ٹورنامنٹ کے نظم و ضبط پر سوالات اٹھا سکتے ہیں۔

تاحال کھلاڑیوں یا فرنچائز کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم امکان ہے کہ پی ایس ایل حکام اس معاملے کا جائزہ لے کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں