نیوز ڈیسک – مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے مزید شدت اختیار کر لی ہے، جہاں ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں تبریز پیٹروکیمیکل کمپنی کے ایک یونٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
تسنیم خبر ایجنسی کے مطابق مشرقی آذربائیجان کے بحران مینجمنٹ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ صورتحال قابو میں ہے اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی قسم کے زہریلے یا مضر مادے کا اخراج نہیں ہوا۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر سید مجید موسوی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل سے منسلک اہم تنصیبات کے خلاف جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے اسرائیل کے نیوت ہوواف صنعتی علاقے سمیت مختلف ریفائنریوں، اسٹیل ملز اور ایلومینیم پلانٹس کو نشانہ بنایا ہے اور یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ادھر پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے، تاہم ابھی تک واشنگٹن یا تہران کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ایران کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ان مجوزہ مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات امریکی فوجیوں کی خطے میں آمد کو چھپانے کیلئے ہیں، اور ایران امریکی افواج کے خلاف سخت ردعمل کیلئے تیار ہے۔
اس دوران خطے میں موجود امریکی جامعات کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ بیروت کی امریکن یونیورسٹی نے کلاسز آن لائن کر دی ہیں جبکہ عراق میں امریکی سفارتخانے نے بغداد، سلیمانیہ اور دہوک کی جامعات کو ممکنہ حملوں سے خبردار کیا ہے۔
جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل، گیس اور کھاد کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جبکہ آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے دی گئی ڈیڈ لائن میں 6 اپریل تک توسیع کر دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، اردن اور کویت میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں ریڈار سسٹمز اور ڈرونز کو نقصان پہنچا ہے۔
سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر بھی حملے کی اطلاعات ہیں، جہاں امریکی طیاروں کو نقصان پہنچا اور متعدد اہلکار زخمی ہوئے، تاہم اس کی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی۔
ایرانی فوجی ترجمان ابراہیم ذوالفقاری کے مطابق حملے میں ایک طیارہ تباہ جبکہ دیگر کو نقصان پہنچا۔
ماہرین کے مطابق ایواکس طیارہ جدید جنگ میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے، جو سینکڑوں کلومیٹر دور تک دشمن کی نقل و حرکت کو مانیٹر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور خطے میں کسی بھی وقت مزید بڑے تصادم کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ سفارتی کوششیں ابھی تک غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔


