اسلام آباد (ایم این این) – محکمہ موسمیات نے پیر کے روز ملک بھر میں یکم اپریل سے بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ایک مغربی ہواؤں کا سلسلہ یکم اپریل کو بلوچستان کے جنوب مغربی علاقوں میں داخل ہوگا، جس کے باعث مختلف علاقوں میں بارش، تیز ہوائیں اور گرج چمک کا امکان ہے۔ یہ سلسلہ چار اپریل تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔
اس موسمی نظام کے زیر اثر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دو اپریل کی شام سے چار اپریل تک وقفے وقفے سے بارش اور گرج چمک متوقع ہے، جبکہ بعض مقامات پر موسلادھار بارش اور ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں پنجگور، تربت، کیچ، آواران، گوادر، پسنی، اورماڑہ، لسبیلہ، خضدار، خاران، چاغی، دالبندین، قلات، سبی، کوہلو، بارکھان، نصیرآباد، کوئٹہ، لورالائی، زیارت، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، نوشکی، ہرنائی، ژوب اور مستونگ شامل ہیں۔
خیبر پختونخوا میں چترال، دیر، سوات، کالام، شانگلہ، بونیر، کوہستان، ملاکنڈ، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، بالاکوٹ، ہری پور، مردان، نوشہرہ، پشاور، کرم، صوابی، چارسدہ، کوہاٹ، ہنگو، کرک، بنوں، لکی مروت، ٹانک، باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، ڈیرہ اسماعیل خان اور وزیرستان میں بارش، گرج چمک اور پہاڑی علاقوں میں برفباری کا امکان ہے۔
پنجاب میں مری، گلیات، اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، سرگودھا، میانوالی، فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، خوشاب، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ، نارووال، لاہور، پاکپتن، اوکاڑہ، قصور، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، بھکر، لیہ، ملتان، کوٹ ادو، بہاولپور، ساہیوال، بہاولنگر اور رحیم یار خان میں بارش اور آندھی طوفان جبکہ بعض مقامات پر ژالہ باری کا امکان ہے۔ ڈیرہ غازی خان اور گرد و نواح میں شدید بارش کی پیشگوئی بھی کی گئی ہے۔
سندھ میں دو سے چار اپریل کے دوران کراچی، ٹھٹھہ، بدین، حیدرآباد، سکھر، دادو، کشمور، جیکب آباد، لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد اور تھرپارکر میں بارش اور کہیں کہیں ژالہ باری کا امکان ہے۔
گلگت بلتستان میں دیامر، استور، غذر، اسکردو، ہنزہ، گلگت، گانچھے اور شگر میں بارش اور پہاڑوں پر برفباری متوقع ہے، جبکہ کشمیر کے علاقوں نیلم ویلی، مظفرآباد، پونچھ، ہٹیاں، باغ، حویلی، سدھنوتی، کوٹلی، بھمبر اور میرپور میں بھی اسی نوعیت کا موسم متوقع ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اس دوران خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ بلوچستان کے شمال مشرقی علاقوں خصوصاً خضدار، لسبیلہ، آواران، خاران، قلات، مستونگ، کوہلو، ژوب، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ اور شیرانی میں سیلابی ریلوں کا خطرہ بھی موجود ہے۔
ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور خیبر پختونخوا کے مقامی ندی نالوں میں بھی طغیانی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
سیاحوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور احتیاط برتیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق تیز آندھی، ژالہ باری اور آسمانی بجلی کمزور ڈھانچوں جیسے بجلی کے کھمبوں، اشتہاری بورڈز اور شمسی پینلز کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔


