جدہ (ایم این این) – سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پیر کے روز جدہ میں اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے ساتھ سہ فریقی ملاقات کی، جبکہ امریکا۔اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ملاقات کے دوران رہنماؤں نے تازہ ترین صورتحال اور اس کے علاقائی و عالمی استحکام پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا، جن میں بین الاقوامی بحری آمد و رفت، توانائی کی فراہمی اور عالمی معیشت کو درپیش خطرات شامل ہیں۔
رہنماؤں نے صورتحال پر قابو پانے اور علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خلیجی تعاون کونسل کے ممالک اور اردن کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملے، خصوصاً اہم تنصیبات اور شہری مراکز پر حملے، خطرناک حد تک کشیدگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔
سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق اجلاس میں آزادیٔ جہاز رانی، توانائی کے تحفظ اور عالمی معیشت پر اثرات سمیت مختلف پہلوؤں پر بھی غور کیا گیا، جبکہ امن اور استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا گیا۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب 28 فروری سے جاری جنگ کے باعث خطے میں تناؤ بڑھ چکا ہے۔ سعودی عرب، اردن اور قطر سمیت کئی عرب اور اسلامی ممالک نے بارہا ایرانی حملوں کی شکایات کی ہیں، حالانکہ وہ اس تنازع کا حصہ نہیں ہیں۔
علاوہ ازیں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ویڈیو لنک کے ذریعے خلیجی تعاون کونسل، روس اور اردن کے مشترکہ وزارتی اجلاس میں شرکت کی، جس میں خطے میں ایرانی حملوں کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔


