نیوز ڈیسک (ایم این این) – امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اہم شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے کر کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس میں پانی صاف کرنے کے پلانٹس بھی شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے لاکھوں افراد کے پانی کے ذرائع متاثر ہو سکتے ہیں اور یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔
اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران میں ایک “نئی اور زیادہ معقول قیادت” سے بات چیت کر رہا ہے اور پیش رفت ہو رہی ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا یا آبنائے ہرمز فوری طور پر بحال نہ کی گئی تو امریکا ایران کے بجلی گھروں، تیل کے ذخائر، خارگ جزیرے اور ممکنہ طور پر پانی صاف کرنے کے پلانٹس کو بھی تباہ کر سکتا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکن رائد جرار نے ان بیانات کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی ملک کے بجلی، تیل اور پانی کے نظام کو تباہ کرنے کی دھمکی اجتماعی سزا اور ممکنہ جنگی جرم کے زمرے میں آتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ امریکا کی فوج ہمیشہ قانون کے دائرے میں رہ کر کارروائی کرے گی۔
ٹرمپ اس سے قبل بھی ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے متعدد ڈیڈ لائنز دے چکے ہیں، جن میں آخری تاریخ چھ اپریل مقرر کی گئی ہے۔ جہاں ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، وہیں ایرانی حکام نے براہ راست مذاکرات کی تردید کی ہے، البتہ ثالثوں کے ذریعے تجاویز ملنے کا اعتراف کیا ہے۔
شدید حملوں اور اعلیٰ ایرانی قیادت کی ہلاکت کی خبروں کے باوجود حکومت کی تبدیلی کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ رپورٹس کے مطابق علی خامنہ ای کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں، جس پر ٹرمپ نے تنقید کی۔
دوسری جانب ایران نے خطے میں میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کو محدود رکھا ہوا ہے، جس سے عالمی توانائی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو وہ بھی اسی نوعیت کا جواب دے گا۔
ادھر امریکا نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے۔ امریکی فوج کے بیاسیویں ایئر بورن ڈویژن کے ہزاروں اہلکار مشرق وسطیٰ پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، جبکہ میرینز، بحریہ اور خصوصی دستے پہلے ہی تعینات کیے جا چکے ہیں۔
یہ اہلکار نارتھ کیرولائنا میں قائم فورٹ بریگ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان میں کمانڈ، لاجسٹکس اور جنگی یونٹس شامل ہیں۔ تاحال ایران کے اندر فوج بھیجنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم یہ تعیناتی ممکنہ آئندہ کارروائیوں کے لیے تیاری کا حصہ قرار دی جا رہی ہے۔


