تہران (ایم این این) – ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر سخت ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے ایران کو “پتھر کے دور” میں واپس بھیجنے کی دھمکی دی تھی، اور خبردار کیا ہے کہ ایسے بیانات بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے دوران خطرناک غلط اندازے کی عکاسی کرتے ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل مجید موسوی نے اس دھمکی کو غیر حقیقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی قدیم تہذیب کو تباہ کرنے کا تصور “محض ایک وہم” ہے۔
انہوں نے امریکی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ “ہالی ووڈ طرز کی خیالی سوچ” نے واشنگٹن کی حقیقت سے دوری پیدا کر دی ہے، اور امریکا کی ڈھائی سو سالہ تاریخ کا موازنہ ایران کی ہزاروں سال پر محیط تہذیب سے نہیں کیا جا سکتا۔
مجید موسوی نے خبردار کیا کہ کسی بھی بڑے فوجی حملے کا نتیجہ ایران کو کمزور کرنے کے بجائے امریکی افواج کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہوگا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ ایران جنگ بندی چاہتا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ اس پر غور اسی صورت میں کیا جائے گا جب خلیج ہرمز مکمل طور پر کھول دی جائے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی ایک علیحدہ بیان میں اسی نوعیت کی دھمکی کو دہرایا۔
یہ تنازع اب اپنے پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکا ہے، جو اٹھائیس فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔
اس کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی محدود کر دی ہے، جو دنیا کی تقریباً بیس فیصد تیل اور گیس کی ترسیل کا مرکزی راستہ ہے۔
اس صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور چین اور بھارت جیسے بڑے درآمدی ممالک میں تشویش بڑھ گئی ہے۔


