تہران/اسلام آباد (ایم این این) – مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ایران نے مشروط طور پر دو ہفتے کی جنگ بندی اور آبنائے ہرمز سے محدود گزرگاہ کی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے، جبکہ امریکہ نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کے بعد فوجی کارروائیاں عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل ایران کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کے خلاف حملے بند کیے جاتے ہیں تو ایرانی افواج بھی اپنی دفاعی کارروائیاں روک دیں گی۔
انہوں نے کہا کہ دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ ممکن ہوگی، بشرطیکہ ایران کی مسلح افواج کے ساتھ رابطہ اور تکنیکی امور کو مدنظر رکھا جائے۔
ایرانی بیان کے مطابق مذاکرات اسلام آباد میں شروع ہوں گے، تاہم امریکہ پر “مکمل عدم اعتماد” کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔ ایران نے کہا کہ یہ مذاکرات دو ہفتوں تک جاری رہیں گے اور باہمی رضامندی سے اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
بیان میں قومی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے عوام اور سیاسی جماعتوں سے کہا گیا کہ وہ اس عمل کی حمایت کریں، جبکہ خبردار کیا گیا کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ ایران کے خلاف بمباری اور حملے دو ہفتوں کے لیے معطل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر کی درخواست پر کیا گیا۔
ٹرمپ نے اس پیش رفت کو “دو طرفہ جنگ بندی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ 10 نکاتی تجویز قابل عمل ہے اور زیادہ تر اختلافی نکات حل ہو چکے ہیں، جبکہ آئندہ دو ہفتے حتمی معاہدے کے لیے اہم ہوں گے۔
غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق اسرائیل بھی اس جنگ بندی پر آمادہ ہو سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اطلاعات ہیں کہ جنگ بندی کا اطلاق آبنائے ہرمز کھولنے کے بعد ہوگا۔
تاہم جنوبی لبنان کی صورتحال بدستور غیر واضح ہے جہاں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں، جس سے خطے کی پیچیدگیاں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت کشیدگی میں کمی کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے، تاہم اس کی کامیابی تمام فریقین کے صبر اور اعتماد پر منحصر ہوگی۔


