اسلام آباد (ایم این این) – دفتر خارجہ کے مطابق ایران کا اعلیٰ سطحی وفد کل ہونے والے اہم امریکی-ایرانی جنگ بندی مذاکرات سے قبل اسلام آباد پہنچ گیا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں آنے والے وفد کا استقبال نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ فریقین تعمیری مذاکرات کریں گے اور پاکستان پائیدار امن کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی اور ایرانی مذاکرات کی میزبانی کو پاکستان اور مسلم دنیا کے لیے “باعث فخر لمحہ” قرار دیا۔ اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں انہوں نے ایران اور امریکہ کی قیادت کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور مذاکرات کے لیے اسلام آباد آنے پر آمادگی ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت نے نہایت محتاط اور پراعتماد انداز میں دونوں ممالک کو جنگ بندی پر آمادہ کیا۔ وزیراعظم نے اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کی شبانہ روز محنت اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو سراہا، جنہوں نے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے ان مذاکرات کو “فیصلہ کن مرحلہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ عارضی جنگ بندی کے بعد دیرپا امن کا حصول ایک مشکل مرحلہ ہوگا۔
دریں اثنا برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے پاکستان کو امریکی-ایرانی جنگ بندی میں کردار ادا کرنے پر مبارکباد دی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلیفونک رابطے میں شہباز شریف نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق کیئر اسٹارمر نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے مذاکرات کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے جنگ بندی برقرار رکھنے اور دیرپا امن کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔
علاوہ ازیں اسحاق ڈار نے فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بیرو سے بھی ٹیلیفون پر بات کی، جنہوں نے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے ایران کے جوہری، بیلسٹک اور علاقائی معاملات کے حل کے لیے جامع مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا جبکہ دونوں وزراء نے لبنان کو جنگ بندی معاہدے میں شامل کرنے کی اہمیت پر بھی اتفاق کیا۔


