واشنگٹن / اسلام آباد (ایم این این) – امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکہ کو “کھیلنے” کی کوشش نہ کرے، جبکہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے اہم مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد روانہ ہوئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینس کو ایران کے ساتھ جاری چھ ہفتوں پر محیط تنازع کے حل کی ذمہ داری سونپی ہے، حالانکہ وہ ماضی میں بیرون ملک فوجی مداخلت کے حوالے سے محتاط مؤقف رکھتے رہے ہیں۔
روانگی سے قبل گفتگو کرتے ہوئے وینس نے کہا کہ اگر ایران سنجیدگی سے مذاکرات کرے تو امریکہ تیار ہے، تاہم کسی بھی چالاکی کی صورت میں سخت مؤقف اختیار کیا جائے گا۔
ہفتہ کو اسلام آباد میں شروع ہونے والے مذاکرات امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے کا ایک اہم موقع ہیں، تاہم دونوں ممالک کے مطالبات میں واضح فرق موجود ہے، خصوصاً ایران کے جوہری اور بیلسٹک پروگرامز پر۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، جو دیگر اعلیٰ حکام بشمول وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے، نے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی اور ایرانی اثاثوں کی بحالی مذاکرات سے قبل ضروری ہے۔
ایرانی وفد میں دیگر اہم شخصیات بھی شامل ہیں، جن کا استقبال پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور دیگر اعلیٰ حکام نے کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ان مذاکرات کو “فیصلہ کن مرحلہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ عارضی جنگ بندی کے بعد مستقل امن کا حصول انتہائی اہم ہے۔
وینس کے ہمراہ امریکی خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر بھی موجود ہیں، جو پہلے بھی ایران کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات میں شامل رہے ہیں۔
اہم معاملات میں لبنان کی صورتحال اور آبنائے ہرمز کی بحالی شامل ہیں، جسے ایران نے اسرائیلی کارروائیوں کے ردعمل میں بند کیا تھا۔ اس بندش نے عالمی معیشت اور امریکہ میں مہنگائی پر نمایاں اثر ڈالا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ یہ اہم بحری راستہ جلد کھول دیا جائے گا، چاہے ایران تعاون کرے یا نہ کرے۔
یہ مذاکرات جے ڈی وینس کے لیے ایک بڑا امتحان ہیں، جنہیں محدود سفارتی تجربے کے باوجود ایک پیچیدہ عالمی تنازع کے حل میں اہم کردار ادا کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان کا محتاط مؤقف ایران کے لیے قابل قبول ہو سکتا ہے، تاہم صورتحال نہایت حساس ہے۔


