واشنگٹن/تہران (ایم این این) — امریکی بحریہ کے دو جنگی جہاز آبنائے ہرمز میں داخل ہوگئے ہیں جہاں مبینہ بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے آپریشن شروع کیا گیا ہے، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یو ایس ایس فرینک ای پیٹرسن اور یو ایس ایس مائیکل مرفی نامی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز نے اس اہم آبی گزرگاہ میں داخل ہو کر کارروائی کا آغاز کیا۔ مزید امریکی وسائل، بشمول زیرِ آب ڈرونز، بھی آئندہ دنوں میں اس آپریشن کا حصہ بن سکتے ہیں۔
سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد عالمی تجارت کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرنا اور تیل کی ترسیل کو یقینی بنانا ہے، کیونکہ دنیا کے تقریباً بیس فیصد خام تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو “صاف” کر رہا ہے اور اس سے عالمی معیشت کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ہو یا نہ ہو، امریکہ کامیاب رہے گا، جبکہ مذاکرات کو انہوں نے “انتہائی سنجیدہ” قرار دیا۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے سخت ردعمل کی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی فوجی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش پر “شدید جواب” دیا جائے گا۔ ایرانی بحریہ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ان کے پاس ہے اور صرف مخصوص شرائط کے تحت شہری جہازوں کو گزرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ امریکی دعووں کی تردید بھی کی گئی۔
ادھر پاکستانی حکومتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے ایران امریکہ مذاکرات میں براہ راست بات چیت ہوئی جس میں پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے ضوابط اور مشترکہ گشت کی تجویز بھی پیش کی۔
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور حالیہ تنازع نے مشرق وسطیٰ اور عالمی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے۔


