ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان، عالمی تجارت کو سنگین خطرات

0
2

واشنگٹن (ایم این این) — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی بحریہ فوری طور پر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کرے گی اور بین الاقوامی پانیوں میں ان تمام جہازوں کو روکے گی جو ایران کو ٹول ادا کرتے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید شدت مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

یہ اعلان ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کی ناکامی کے بعد سامنے آیا۔ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی تصدیق کی کہ مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے، جبکہ امریکہ نے اپنا “حتمی اور بہترین” مؤقف پیش کیا تھا۔

دوسری جانب ایران نے ان امریکی دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ اس کے دو جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، اور خبردار کیا کہ کسی بھی فوجی جہاز کی نقل و حرکت کا “سخت جواب” دیا جائے گا۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق پاکستانی پرچم بردار دو آئل ٹینکرز، خیرپور اور شالامار، آبنائے ہرمز سے واپس مڑ گئے، جس سے سمندری راستے میں رکاوٹ کا خدشہ ظاہر ہوتا ہے۔

ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ برطانیہ اور دیگر ممالک بارودی سرنگیں صاف کرنے والے بحری جہاز بھیج رہے ہیں، جبکہ امریکی مرکزی کمان سینٹکام نے بھی مائن کلیئرنگ کی تیاریوں کی تصدیق کی ہے۔

امریکہ میں اس فیصلے پر تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ سینیٹر مارک وارنر نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آتی کہ ناکہ بندی ایران کو راستہ کھولنے پر کیسے مجبور کرے گی۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ کسی بھی “غلط اقدام” کا انجام دشمن کے لیے مہلک ثابت ہوگا، اور دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ان کے کنٹرول میں ہے۔

ٹرمپ نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ منتخب جہازوں کو گزرنے دے۔ انہوں نے کہا، “یا سب کو اجازت ہوگی یا کسی کو نہیں۔”

ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران دونوں ایک جیسی حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں، جس سے بین الاقوامی قانون کے تحت صورتحال پیچیدہ ہو گئی ہے، کیونکہ عام طور پر ناکہ بندی کو جنگ کے اعلان کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔

ادھر عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے جنگ بندی میں توسیع کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جنگ سے بچنے کے لیے تمام فریقین کو مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔ عمان اس سے قبل امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا تھا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں