اسلام آباد: پاکستان سمیت بارہ ممالک نے ہفتے کے روز اسرائیل کی جانب سے سومالی لینڈ میں سفارتی نمائندہ مقرر کرنے کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے صومالیہ کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق اس مذمت میں سعودی عرب، مصر، صومالیہ، سوڈان، لیبیا، بنگلہ دیش، الجزائر، فلسطین، ترکیہ، انڈونیشیا، پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ شامل تھے۔
اسرائیل نے حال ہی میں مائیکل لوٹیم کو سومالی لینڈ کے لیے اپنا پہلا غیر مقیم سفیر مقرر کیا ہے، جو صومالیہ کا ایک علیحدگی پسند خطہ ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ وزرائے خارجہ نے ایسے یکطرفہ اقدامات کو مسترد کیا جو ریاستوں کی وحدت کو نقصان پہنچاتے ہیں یا ان کی خودمختاری میں مداخلت کرتے ہیں۔
انہوں نے صومالیہ کی وحدت اور اس کے جائز ریاستی اداروں کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہی ادارے عوام کی حقیقی نمائندگی کرتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل کا یہ اقدام بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے منشور اور افریقی یونین کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات ایک خطرناک مثال قائم کر سکتے ہیں جو افریقہ کے ہارن خطے کے استحکام کو متاثر کر کے خطے کے امن و سلامتی پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
اس سے قبل اسلامی تعاون تنظیم نے بھی اسرائیل کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے صومالیہ کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا تھا۔
یاد رہے کہ اسرائیل دسمبر میں سومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے والا پہلا ملک بنا تھا، جبکہ بعد ازاں امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس فیصلے کا دفاع کیا تھا، جس پر پاکستان سمیت کئی ممالک نے تحفظات کا اظہار کیا۔


