جنگ بندی کے اختتام سے قبل ایران کے جواب کا انتظار، کشیدگی میں اضافہ

0
2

اسلام آباد (ایم این این): پاکستان کے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ مجوزہ امن مذاکرات میں شرکت سے متعلق تاحال باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان بطور ثالث ایرانی حکام سے مسلسل رابطے میں ہے اور سفارت کاری و مکالمے کو فروغ دے رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی 22 اپریل کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے خاتمے سے قبل ایران کا مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ انتہائی اہم ہوگا۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران نے تاحال مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ نہیں کیا، جبکہ امریکی اقدامات کو متضاد قرار دیتے ہوئے سمندری "قزاقی” سے تعبیر کیا۔ امریکی فوج کی جانب سے ایک ٹینکر پر کارروائی سمیت دیگر واقعات نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ان حالات میں پاکستان سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر سے ملاقات میں دونوں ممالک پر زور دیا کہ جنگ بندی میں توسیع کریں اور مذاکرات کو موقع دیں، جبکہ امریکی حکام نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر اعتماد کا اظہار کیا تاہم جنگ بندی میں توسیع سے گریز کا عندیہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں فوجی آپشن بھی زیر غور ہے۔

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسلام آباد میں ممکنہ دوسرے مرحلے کے مذاکرات کی توقع کی جا رہی ہے۔ پہلے دور کے مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوئے تھے تاہم جنگ بندی برقرار رہی۔ پاکستان اس عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے جبکہ ایران کی جانب سے تاحال شرکت کی حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں