واشنگٹن (ایم این این): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ امن معاہدہ اسلام آباد میں طے پا گیا تو وہ پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں، اور اس بات کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک معاہدے کے بہت قریب ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے تقریباً تمام شرائط تسلیم کر لی ہیں اور معاہدہ جلد طے پانے کا امکان ہے۔
پاکستان نے حالیہ اسلام آباد مذاکرات کے بعد سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں تاکہ امریکہ اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ اطلاعات ہیں کہ دونوں ممالک کے وفود ایک بار پھر اسلام آباد آ سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی دو ہفتے کی جنگ بندی کے بعد سامنے آئی ہے، جس نے 28 فروری سے جاری کشیدگی کو عارضی طور پر روک دیا تھا۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر معاہدہ اسلام آباد میں طے پاتا ہے تو وہ پاکستان جانے پر غور کریں گے اور پاکستان کے کردار کو سراہا۔
انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔
ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ اگر ضرورت پڑی تو جنگ بندی میں توسیع کی جا سکتی ہے، تاہم امید ظاہر کی کہ اس سے پہلے ہی معاہدہ ہو جائے گا۔
انہوں نے بغیر شواہد کے دعویٰ کیا کہ ایران افزودہ یورینیم ترک کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے، جو امریکی مطالبات میں شامل ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو لڑائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے سفارتی سطح پر عالمی رابطے تیز کر دیے ہیں۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے برطانیہ، چین، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے حکام سے رابطے کیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان کوششوں کا مقصد جنگ بندی کو 22 اپریل کے بعد بھی برقرار رکھنا اور مذاکرات کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار کرنا ہے، جس میں ممکنہ طور پر 45 روز کی توسیع بھی شامل ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تعلقات کو “بہت اچھا” قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جلد معاہدہ طے پا جائے گا۔


