اسلام آباد (ایم این این) — بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کے مالی خسارے کو مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 3.2 فیصد تک رہنے کا تخمینہ لگاتے ہوئے حکومت کو مہنگی فیول سبسڈیز ختم کرنے، ٹیکس نیٹ بڑھانے اور مالی خطرات کم کرنے کی ہدایت دی ہے۔
فِسکل مانیٹر 2026 کے مطابق پاکستان کی آمدن اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور 2031 تک اس میں معمولی کمی کے ساتھ استحکام متوقع ہے۔ اگرچہ سرکاری قرضوں میں بتدریج کمی آئے گی، تاہم یہ مالیاتی ذمہ داری کے قانون میں مقررہ حد سے زیادہ رہے گا، جبکہ اخراجات بلند رہنے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق مالی خسارہ مالی سال 2025 کے 5.4 فیصد سے کم ہو کر رواں اور آئندہ سال 3.2 فیصد رہے گا اور 2029 تک 2.8 فیصد تک گر سکتا ہے، تاہم 2031 تک دوبارہ بڑھ کر 4.6 فیصد ہو سکتا ہے۔
پرائمری سرپلس رواں سال 2.5 فیصد کی بلند ترین سطح پر ہوگا مگر بتدریج کم ہو کر 2031 تک نہ ہونے کے برابر رہ جائے گا۔ آمدن درمیانی مدت میں تقریباً 15.5 فیصد جی ڈی پی کے قریب رہے گی جبکہ اخراجات میں وقتی کمی کے بعد دوبارہ اضافہ متوقع ہے۔
آئی ایم ایف نے یہ بھی پیشگوئی کی ہے کہ پاکستان کا مجموعی سرکاری قرضہ بتدریج کم ہو کر 2031 تک تقریباً 58.2 فیصد جی ڈی پی رہ جائے گا، جبکہ خالص قرضہ بھی کم ہوتا جائے گا۔
عالمی سطح پر فنڈ نے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع، مہنگائی کے دباؤ اور سخت مالی حالات عالمی معیشت کے لیے خطرات بڑھا رہے ہیں۔ طویل تنازع کی صورت میں توانائی کی قیمتوں، شرح سود اور ڈالر کی قدر میں اضافے سے دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
آئی ایم ایف نے زور دیا کہ حکومتیں وسیع پیمانے پر سبسڈیز سے گریز کریں اور صرف کمزور طبقات کے لیے ہدفی امداد فراہم کریں، جبکہ مرکزی بینک کی خودمختاری، مالی نظم و ضبط اور شفاف پالیسی سازی کو یقینی بنایا جائے۔


