اسلام آباد: اسرائیلی فوج نے پہلی بار لبنان کے اندر اپنی نئی تعیناتی لائن کا نقشہ جاری کر دیا ہے، جس کے تحت درجنوں لبنانی دیہات، جو زیادہ تر خالی ہو چکے ہیں، اس کے کنٹرول میں آ گئے ہیں۔ یہ پیش رفت جنگ بندی کے نفاذ کے چند روز بعد سامنے آئی ہے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکہ کی حمایت سے ہونے والی جنگ بندی 14 اپریل کو ہونے والے براہ راست مذاکرات کے بعد طے پائی، جو کئی دہائیوں بعد پہلی بار ہوئے۔ تاہم اسرائیلی افواج اب بھی جنوبی لبنان کے اندر اپنی پوزیشنز برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
جاری کردہ نقشے کے مطابق یہ تعیناتی لائن مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوئی ہے اور لبنانی حدود میں تقریباً 5 سے 10 کلومیٹر اندر تک جاتی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اس علاقے میں ایک نام نہاد “بفر زون” قائم کرنا چاہتا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق اس کی کارروائیوں کا مقصد حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا اور شمالی اسرائیلی آبادیوں کو ممکنہ حملوں سے محفوظ بنانا ہے۔ فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ متعدد ڈویژنز اور بحریہ کی مدد سے جنوبی لبنان میں بیک وقت کارروائیاں جاری ہیں۔
جنگ بندی کے باوجود لبنانی حکام یا حزب اللہ کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ بے گھر افراد کی واپسی بھی غیر یقینی ہے کیونکہ اسرائیلی افواج اب بھی کئی دیہات تک رسائی محدود کیے ہوئے ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ سرحدی علاقوں میں حزب اللہ کے زیر استعمال گھروں کو مسمار کر دیا جائے گا اور ہر اس ڈھانچے یا راستے کو تباہ کیا جائے گا جو اسرائیلی فوج کے لیے خطرہ بن سکتا ہو۔
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب حزب اللہ نے ایران کی حمایت میں حملے شروع کیے، جس کے بعد اسرائیل نے فوجی کارروائی کی۔ لبنانی حکام کے مطابق اس تنازع میں اب تک دو ہزار ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے، جبکہ بارہ لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔


